اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 85 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 85

۸۵ حال ہے؟“ جواب میں بصد ادب میں نے عرض کیا اور حضور اتنے میں میرے قریب آ کر کھڑے ہو گئے حضور موت کے بعد ایک نئی زندگی ملتی معلوم ہوتی ہے اس پر حضور نے فرمایا۔ٹھیک ہے کفر کا گوشت پوست تھا وہ جا تا رہا۔اب سب خیر ہے۔اب اسلامی گوشت پیدا ہوگا۔اور مسکراتے ہوئے معہ خدام سیر کو تشریف لے گئے۔یہ کوئی لکی چھپی بات نہ تھی کہ سید نا حضرت مولانا مولوی نورالدین کو اللہ تعالیٰ نے جہاں دینی علوم میں ید طولیٰ عطا فرمایا تھا اور وہ زمانہ میں ایک عالم بے بدل مانے ہوئے تھے وہاں علم طب میں بھی ان کو کمال حاصل تھا اور ان کی تشخیص و علاج کا زمانہ بھر میں سکہ بیٹھا ہوا تھا اور چونکہ وہ نہایت درجہ بے نفس ، بے ریا اور بچے خیر خواہ خلق واقع ہوئے تھے۔اکثر خدا تعالیٰ خود الہام سے بھی مددفرماتا تھا۔یہی وجوہ تھے کہ ملک کے کناروں سے لوگ بیماروں خصوصا لا علاج بیماروں کو لے کر حضرت کی خدمت میں قادیان آیا کرتے تھے اور اکثر ان میں سے معجزانہ رنگ میں شفا یاب ہو کر واپس ہوا کرتے تھے۔حضرت مولوی صاحب چونکہ روحانیت کے لحاظ سے بھی کمال کو پہنچے ہوئے تھے کسی مرض کو لا علاج کے نام سے یاد کرنا نا پسند فرماتے اور خطر ناک سے خطرناک مریضوں کے علاج سے بھی اکتایا نہ کرتے اور دو او د عا دونوں رنگ میں پوری ہمدردی اور کوشش و توجہ سے بلا امتیاز غریب وامیر کا علاج فرماتے۔حتی کے بعض لوگوں پر تو ان کی غربت و بیکسی کے باعث مفت دوائی کے علاوہ کھانے اور دیگر ضروریات کے واسطے بھی اپنی جیب سے خرچ کیا کرتے اور علاج معالجہ میں کبھی تھکا نہ کرتے تھے۔ظاہر ہے کہ ایسے انسان کی زبان سے اگر کسی مریض کے متعلق ایسے الفاظ نکلیں جن کو سننے والے اس مریض پر چار آنسو بھی بہا دیں نہ معمولی سمجھ یا کمزور دل گردہ کے انسان بلکہ حضرت قاضی امیرحسین صاحب رضی اللہ عنہ جیسا جری اور باحوصلہ انسان بھی ان الفاظ سے متاثر اور ان کے نتیجہ اور مفہوم سے مریض کے انجام کا خیال کر کے رودے تو اس مریض کی حالت اور مرض کی شدت وغلبہ کا اندازہ لگا نا آسان ہو جاتا ہے۔در حقیقت صحت کی نسبت موت زیادہ قریب نظر آ رہی تھی۔میں چار پائی سے اٹھ کر رفع حاجت تو درکنار، پہلو بدلنے سے بھی عاجز ہو چکا تھا۔اور پل پل اور گھڑی گھڑی کی خبریں منگائی جانے لگیں۔اور ایک کی بجائے دو تین آدمی میری خبر گیری کے واسطے مقرر کئے گئے اور میرے انجام کے قرب کا عام چرچا ہو گیا اور کان کسی خبر کی انتظار میں رہنے لگے تھے۔ان حالات میں میرا صحت پا جانا یقینا یقیناً موت کے منہ بلکہ قبر سے واپس آجانا خدا کے خاص فضل اور