اصحاب احمد (جلد 9) — Page 302
٣٠٢ ۵- سفر کشمیر (۱۹۲۱ء میں ) ۱۔طبی مشورہ کے مطابق حضرت خلیفہ مسیح الثانی ۲۵ جون ۱۹۲۱ء کو کشمیر تشریف لے گئے۔ایک جم غفیر نے بیرون قصبہ تک الوداع کہا۔حضور کے ہمراہ حضرت ام المومنین متینوں حرم اور حرم حضرت خلیفہ المسیح اول تھیں۔نیز حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب حضرت حافظ روشن علی صاحب اور بعض اور خدام ہمرکاب تھے۔امرتسر ریلوے اسٹیشن پر تمام جماعت موجود تھی۔قافلہ ریز روگاڑی (ڈبہ ) میں سوار ہوا۔لاہور ریلوے اسٹیشن پر حضرت مستری محمد موسیٰ صاحب کی طرف سے دعوت کا کھانا پہنچا۔راولپنڈی تک راستہ کی جماعتوں نے استقبال کیا اور حضور سو نہ سکے۔راولپنڈی میں حضور کا قیام محترم بابونورالدین صاحب سیکرٹری جماعت کے ہاں ہوا۔کیمبل پور کو ہاٹ اور نوشہرہ وغیرہ کے احباب ملاقات کے لئے آئے۔۲۷ / جون کو لاریوں کے ذریعہ قافلہ سری نگر کے لئے روانہ ہوا۔محترم شیخ فضل احمد صاحب اور محترم ماسٹر عبدالرحمن صاحب خاکی نے موٹر کے ذریعہ آکر راستہ میں ملاقات کی اور پھر تیزی سے واپس چلے گئے تا استقبال اور کھانے وغیرہ کا انتظام کر سکیں۔پانچ گھنٹے کے سفر کے بعد تین بجے بعد دو پہر قافلہ مری پہنچا۔حضرت شیخ مشتاق حسین صاحب کے ہمزلف محترم شیخ عبدالغنی صاحب میٹ ایجنٹ کے ہاں نہایت پر تکلف کھانے کا انتظام تھا۔جو مری کے دونوں دوستوں ( شیخ فضل احمد صاحب اور ماسٹر عبدالرحمن صاحب خا کی ) کے گہرے دوست تھے۔مری کے احباب نے شام کے کھانے کی رسد ساتھ دے دی۔ایک معزز انگریزی لیڈی نے محترم شیخ اللہ بخش صاحب کی معرفت پانچ روپے نذرانہ دیتے ہوئے کہا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات سے واقف ہوں۔میرا ان پر بڑا اعتقاد ہے۔یہ ان کے خلیفہ ہیں۔یہ بھی ایسے ہی ہوں گے۔مری سے شام ساڑھے چار بجے روانہ ہو کر کو ہالہ کے ڈاک بنگلہ میں قیام ہوا۔کو ہالہ انگریزی علاقہ میں ہے اور کشمیری علاقہ کی سرحد پر ہے۔صبح ساڑھے پانچ بجے روانہ ہو کر ایک سو بتیس میل کا سفر طے کر کے قافلہ ساڑھے سات بجے شام سرینگر پہنچا۔جہاں حضرت خلیفہ نورالدین صاحب اور ان کے فرزند محترم خلیفہ عبدالرحیم صاحب اور ( آسنور کے ) خواجہ عبدالرحمن صاحب استقبال کے لئے موجود تھے۔ایک بوٹ