اصحاب احمد (جلد 9) — Page 303
٣٠٣ ۱۳۷ ہاؤس میں قیام ہوا۔۲- اس عرصہ قیام کشمیر میں حضور متعدد مقامات پر تشریف لے گئے مثلاً گاندھر بل۔بیج بہاڑہ۔اچھا بل۔ویری ناگ۔اسلام آباد کنی پورہ کا پرن۔رشی نگر اور آسنور * بعض مقامات پر دیگر مقامات سے احباب ملاقات کے لئے تشریف لائے مثلاً حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کے بڑے بھائی محترم سید محمد صادق صاحب اور ( لاہور کے ) حضرت محمد موسیٰ صاحب کے فرزند محترم میاں محمد حسین صاحب - گلکت سے محترم ماسٹر غلام حسین صاحب اور بانڈی پورہ کے بعض احباب۔متعدد مقامات پر بیعتیں ہوئیں۔حضور نے خطبات جمعہ دیئے۔تبلیغی اور تربیتی خطاب فرمائے۔بعض جگہ صرف چند گھنٹے قیام رہا۔۱۳۸ اس سفر کے تذکرہ میں بعض افراد کا ذکر ہوا ہے۔کچھ تعارف ان کا پیش کیا جاتا ہے۔۱- حضرت بابو ( ملک) نورالدین صاحب بعد ریٹائر منٹ قادیان میں آنریری معاون ناظر ضیافت کے طور پر خدمت بجالاتے رہے۔آپ اور آپ کے بیٹے ملک عزیز احمد صاحب دونوں صحابی تھے۔حضرت ملک عزیز احمد صاحب سابق امیر جماعت راولپنڈی نے بعد تقسیم ملک وفات پائی۔لاہور میں ان کا قیام اپنے بیٹے ملک رشید احمد صاحب کے پاس تھا۔-۲- حضرت شیخ مشتاق حسین صاحب (صحابی) ساکن گوجرانوالہ، جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ سابق امیر جماعت لاہور کے والد تھے۔۳- حضرت مستری محمد موسیٰ صاحب ( صحابی ) نے دسمبر ۱۹۴۵ء میں وفات پائی۔بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہیں۔ان کے فرزند مستری محمد حسین صاحب نے ۱۶ / اکتو بر ۱۹۸۱ء کو وفات پائی۔- -۴- حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے مختصر سوانح کے لئے دیکھئے تا بعین اصحاب احمد جلد سوم۔-۵ ریٹائرڈ کرنل ڈاکٹر خلیفہ تقی الدین صاحب برا در حضرت سیّدہ ام ناصر صاحبہ لا ہور میں قیام رکھتے ہیں۔* جناب بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بھی خدام میں تھے (الفضل بابت ۲۷ جون ۱۹۲۱ء زیر مدینہ المسیح ، گاندھر یل کے سفر میں حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کے ساتھ بھائی جی کے سرینگر میں ٹھہرنے کا ذکر ہے۔(الحکم بابت ۲ جولائی صفحہ ۲) یہ سفر بہت مبارک اور اس کے حالات بہت ایمان افروز تھے۔"