اصحاب احمد (جلد 9) — Page 301
۳۰۱ سرمن ( وعظ ) ہے۔اور اس کی جرات اور جوش کی تعریف کر کے اس کا دل بڑھایا۔عبدالاحد خاں صاحب کابلی نے فی البدیہ شعر پڑھے۔چوہدری علی محمد صاحب۔سید محمود اللہ شاہ صاحب۔میاں (خلیفہ) تقی الدین صاحب اور مرزا گل محمد صاحب نے اپنی رباعیاں اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے اپنی نظم سنائی۔حضور ، حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے منظوم کلام مولوی رحیم بخش صاحب نے سنائے اور اپنا کلام بھی۔حضور نے مرزا گل محمد صاحب کی رباعی کے خیالات کی تعریف فرمائی۔دعا پر جلسہ ختم ہوا۔پھر نماز عصر ادا کر کے مخدوم وخدام نے اکٹھے کھانا کھایا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا اس موقعہ کا مظوم کلام اب معروف ہے۔اس کے چند اشعار یہ ہیں : تیری محبت میں میرے پیارے ہر اک مصیبت اٹھائیں گے ہم مگر نہ چھوڑیں گے تجھ کو ہرگز ، نہ تیرے در پر سے جائیں گے ہم مٹا کے کفر وضلال و بدعت کریں گے آثار دیں کو قائم خدا نے چاہا تو کوئی دن میں ظفر کے پرچم اڑائیں گے ہم وہ شہر جو کفر کا ہے مرکز ہے جس پہ دین مسیح نازاں خدائے واحد کے نام پر اک اب اس میں مسجد بنائیں گے ہم پھر اس کے مینار پر سے دنیا کو حق کی جانب بلائیں گے ہم کلام رب رحیم و رحمن ببانگ دہل سنائیں گے ہم ۱۳۴ ۵- سات میل دور کا لاٹوپ نامی سرسبز پہاڑی پر ۱۳ ستمبر کو حضور خلاف معمول سواری پر بوجہ ضعف تشریف لے گئے۔نماز ظہر کے بعد میاں نیک محمد خان صاحب کو لے کر حضور ایک تنہا پہاڑی کی چوٹی پر تشریف لے گئے اور ان سے حضور نے کہا کہ آپ اتنی دور چلے جائیں کہ ہم ایک دوسرے کو نظر نہ آئیں۔پھر حضور نے دواڑھائی گھنٹے دعائیں کیں اور واپس آکر نماز عصر پڑھائی۔۱۳۵ حضور مع خدام ۱۶ راگست کی رات کو قادیان واپس تشریف لائے۔احباب نے بڑی سڑک پر موڑ کے پاس استقبال کیا۔