اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 294 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 294

۲۹۴ جن میں حضرت قاضی سید امیر حسین صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب بھی تھے۔موڑ پر جا بیٹھی۔منشی عبدالعزیز صاحب نے نہر پر لبنا سائغا للشاربین پیش کیا۔قدم قدم پر باگوں کو روکنا پڑتا تھا۔تا کہ اصحاب مسیح مصافحہ کر لیں۔* -1 ۱۲۴ بعد احباب ذکر شدہ کے بارے میں قدرے تفصیل درج ہے۔حضرت مولوی عطا محمد صاحب صحابی، بعد میں بطور ہیڈ کلرک شعبہ بہشتی مقبرہ ریٹائر ہوئے۔تاریخ وفات اار جنوری ۱۹۸۹ء مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ۔۲- حضرت میاں غلام رسول صاحب حجام امرتسری صحابی۔آپ کے ساتھ تقسیم ملک سے پہلے قادیان میں کسی نے تعارف کراتے ہوئے ان کے سامنے خاکسار کو بتایا تھا کہ ان کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی تبرک ہے۔ان کے متعلق تاریخ احمدیت جلد چہارم طبع اول میں بیان ہوا ہے کہ وہ احمدی ہوئے تو لوگوں نے ان سے کام لینا چھوڑ دیا اور ان کو بہت تنگ کیا۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت تھی۔حضور کے ناخنوں کے ترشے کپڑے میں باندھ کر رکھتے تھے کہ جب میں مروں گا تو میری آنکھوں اور چہرہ پر ڈالے جائیں گے۔ان کے بیٹے کی تعلیم کا خرچ حضرت خلیفہ المسیح الاول دیتے تھے۔بقایا کی وجہ سے اس لڑکے کو بورڈنگ سے نکال دیا گیا۔حضور کو یہ بات ناگوار گزری۔(صفحہ ۵۷۹،۵۷۸) ۲ حضرت بابو ( منشی برکت علی صاحب شملوی صحابی، آپ نے سرکاری ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد مرکز قادیان میں جائنٹ ناظر بیت المال وغیرہ متعددممتاز عہدوں پر کامیاب خدمت سلسلہ بجالانے کی توفیق پائی۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔آپ کے سوانح کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد سوم۔حضرت منشی سراج الدین صاحب کو خاکسار مؤلف نے تقسیم ملک سے پہلے اچھی طرح دیکھا ہے۔اصل حوالہ میں ان کے ایک طومار کا ذکر ہے۔یہ مخالفین کے ابتدائی نایاب اشتہارات کا مجموعہ تھا۔خاکسار نے دیکھا ہوا ہے۔تبلیغ میں حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری اس سے استفادہ فرماتے تھے۔حضرت بابو ( شیخ ) فضل احمد صاحب بٹالوی نے سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد دفتر محاسب قادیان میں خدمت کی اور بوقت تقسیم ملک، ارشاد کے مطابق امانتوں کو بحفاظت قادیان سے لاہور پہنچایا۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔(سوانح کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد سوم طبع دوم ) -۶- حضرت منشی عبدالعزیز صاحب او جلوی یکے از ۳۱۳ صحابہ مراد ہیں۔