اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 292 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 292

۲۹۲ پر چڑھائی چڑھنے میں ٹرین کی ناکامی پر حضرت ام المومنین اور حضور اتر آئے۔پھر بعض خدام بھی۔اسٹیشن قریب تھا۔وہاں تک پیدل پہنچے۔جماعت انبالہ نے تار کے ذریعہ کھانا پیش کرنے کی منظوری لے لی تھی۔وہاں ٹرین رات نو بجے پہنچی۔کھانے کے بعد چند افراد نے بیعت کی۔ٹرین ۹ اکتوبر کو راجپورہ گیارہ بجے شب کے بعد پہنچی۔حضور کا ڈبہ کاٹ کر شیڈ میں پہنچایا گیا۔جہاں راجپورہ۔سنور۔پٹیالہ اور ریاست پٹیالہ کے دیگر مقامات کے احباب موجود تھے۔مغرب وعشاء کی نمازیں اسٹیشن پر ادا کی گئیں۔حضور نے ڈبہ میں آرام فرمایا۔احباب کی درخواست پر حضور نے ایک ہی روز میں سرہند۔سنور۔اور پٹیالہ جانے کا پروگرام منظور فرمایا تھا۔محترم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب پٹیالہ سے موٹر لائے تھے۔سوحضور۱۰ اکتوبر کو صبح سوا سات بجے مع حضرت مرزا شریف احمد صاحب محترم مولوی عبدالرحیم صاحب نیر اور ڈاکٹر صاحب سر ہند تشریف لے گئے۔سرہند کی دیواروں پر چسپاں اشتہاروں پر زیب عنوان ذیل کا شعر ہر شخص ذوق وشوق سے پڑھتا تھا سنو اے دوستو! ہم تم کو یہ مژدہ سناتے ہیں امیرالمؤمنین سرہند میں تشریف لاتے ہیں حضرت مجد دالف ثانی قدس سرہ کے مزار مبارک کے احاطہ سے باہر سر ہند ، خانپور، ہربنس پورہ ، ہستی وغیرہ مضافات کے احباب سوڈیڑھ سو کی تعدا میں حاضر تھے۔مستورات بھی اور بریلی کے منشی سراج الدین صاحب سوداگر چرم بھی۔چند غیر از جماعت معززین اور ہندو بھی۔پھر حضور نے مزار مبارک پر پچیس منٹ دعا کی۔ایک کمرہ میں نشست اور جماعتوں کی طرف سے چائے اور ناشتہ کا اہتمام تھا۔جس سے فارغ ہو کر چند احباب کی بیعت ہوئی۔درگاہ کے خدام کو حضور نے انعام دیا۔پھر حضور گیارہ بجے قبل دو پہر راجپورہ پہنچے۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی طبیعت ناساز ہوگئی۔راجپورہ سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ساتھ ہوئے۔وہاں سے حضور پٹیالہ پہنچے۔جہاں سے لینڈ وگاڑی پر حضور سنور تشریف لے گئے۔مرقوم ہے کہ: وو وہاں کے دوست جن میں حضرت میاں عبداللہ صاحب سنوری اپنی خصوصیت کے لئے خاص امتیاز رکھتے ہیں، استقبال کیلئے قصبہ سے باہر موجود تھے۔حضرت پہلے میاں عبداللہ صاحب کے کنویں پر گئے۔