اصحاب احمد (جلد 9) — Page 291
۲۹۱ کہ غیر مبایعین سے فیصلہ کے دو طریق ہیں۔ان کا میرے ساتھ تفسیری مقابلہ۔دنیا دیکھ لے گی کہ کلام الہی سمجھنے میں کس کو تائید الہی حاصل ہے۔دوسرے غیر مبایع ایک طرح ہمیں کا فرقرار دیتے ہیں۔اس لئے وہ ہمیں مباہلہ کا چیلنج دے سکتے ہیں۔پھر دنیا دیکھ لے گی کہ خدا کا عذاب کس پر آتا ہے اور نزول رحمت کس پر ہوتا ہے۔جماعت شملہ غیر مبایعین کو تحریک کرے کہ وہ ایسے مقابلہ کے لئے اپنے سرگروہوں کو راضی کریں۔- ار ستمبر کو ایک بجے رات حضور ابھی جاگ رہے تھے۔فرمایا کہ میں نے غنودگی میں دیکھا ہے کہ ٹیلیفون دل سے لگا ہوا ہے اور اس کی ایک نالی کان میں دی گئی ہے اور مجھے آواز آئی چل رہی ہے نیم جو دعا کیجئے قبول ہے آج یہ وعدہ سنتے ہی مجھے حضرت مولوی ( نورالدین ) صاحب (خلیفہ اول) کی مکہ مکرمہ والی دعا یاد آگئی۔اور میں نے وہی دعا کی کہ میں جو دعا کروں قبول ہو جائے۔“ -Y جماعت احمد یہ شملہ کے سالانہ جلسہ میں حضور نے اسلام کے زندہ مذہب ہونے پر تقریر کرتے ہوئے تمام مذاہب کو مقابلہ کا چیلنج دیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے۔اور ایسے حالات میں قبول کرتا ہے جبکہ ظاہری سامان بالکل مخالف ہوتے ہیں اور آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعد دنشانات کا ذکر کیا۔ایک روز ایک بنگالی دوست کے حضور سے سوالات کرنے پر محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے جو آئے ہوئے تھے ترجمان کے فرائض ادا کئے۔جماعت کے سالانہ جلسہ میں چوہدری صاحب نے ضرورت الہام پر انگریزی میں تقریر کی۔۲۷ ستمبر کو حج کے روز حضور بعد نماز عصر جلد دعا کے لئے (اندرون خانہ ) تشریف لے گئے۔دوسرے روز خطبہ عید میں حضور نے سورۃ الکوثر کے وجد آفرین نکات بیان کئے۔اور بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کو عیدالاضحیہ سے مشابہت دی گئی ہے۔عید کے تھوڑی دیر بعد حضور نے دوسنتیں پڑھ کر مختصر خطبہ جمعہ دیا۔ایک روز آریہ صاحبان نے ملاقات کی۔دیر تک حضور ان کے سوالات کے جواب دیتے رہے۔ے۔شملہ سے مراجعت۔۱/۸ کتوبر کو شملہ سے ایک بجے بعد دو پہر واپس روانگی ہوئی۔مشایعت کے لئے احباب موجود تھے۔شملہ سے بٹالہ تک ڈبہ ریز رو تھا۔اسی رات کا لکا سے روانگی ہوئی۔راستہ میں ایک مقام