اصحاب احمد (جلد 9) — Page 255
۲۵۵ وہاں ایک بڑ کے درخت کے نیچے کپڑے بچھا کر حضور مع احباب جماعت بیٹھ گئے۔جب قصبہ کے لوگوں کو آپ کی آمد کا علم ہوا تو ملاقات کے لئے آئے۔چونکہ آپ کی مجلس بزرگانہ سادگی کا ایک نظارہ تھی۔اور آپ کے مقدس وجود کے لئے کوئی نمایاں جگہ نہ بنائی گئی تھی۔اس لئے بہت سے لوگوں کو دھو کہ لگا کہ مولوی محمد احسن صاحب مسیح موعود اور پرگنہ بٹالہ کے گورو ہیں۔اور وہ ان سے مصافحہ کرنے لگے۔لیکن پھر مولوی صاحب کے بتانے پر وہ حضرت اقدس کی طرف متوجہ ہوئے۔اس قسم کے واقعات آپ کی زندگی میں کئی دفعہ ہوئے۔۱۸ دنیوی آرام کے لئے کوئی خاص رعایت نہ چاہنا بیان بھائی جی ) حضرت اقدس کی زندگی کا یہ بھی ایک نمایاں پہلو تھا کہ آپ دنیوی آرام وسہولیات میں اپنے لئے کوئی خاص رعایت نہ چاہتے تھے۔ایک دفعہ قادیان کے قصابوں نے کوئی خطرناک شرارت کی۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے حکم دیا کہ ان سے اس وقت تک گوشت خرید نا بند کر دیا جائے جب تک کہ وہ اپنی اصلاح نہ کر لیں۔چنانچہ اس ارشاد کے مطابق سب احباب نے گوشت ترک کر کے دال کھانا شروع کر دی۔اور آپ خود بھی دال سبزی استعمال فرمانے لگے۔ایک دن حضرت مولوی سرور شاہ صاحب نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک بکری ہے۔حضور اس کو اپنے استعمال میں لائیں۔یہ سن کر حضور نے فرمایا کہ میرا دل اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ہمارے دوست ہمارے کہنے پر دالیں کھا ئیں اور ہمارے گھر میں گوشت پکے۔۱۹ مایوسی سے دشمنی ( بیان بھائی جی ) جہاں تک میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے۔آپ مایوسی کے بہت بڑے دشمن تھے۔آپ کی مجلس اور صحبت میں بیٹھنے والا شخص امید اور امنگ سے بھر جاتا تھا۔آپ کے ہشاش بشاش چہرے کے دیکھنے سے ہی سالہا سال کے غم اور کلفتیں دور ہو جاتی تھیں۔حضور فرمایا کرتے تھے کہ انسان کی فطرت میں خدا تعالیٰ نے گناہوں پر غالب آنے کا مادہ رکھا ہے۔پس خواہ انسان اپنی بدیوں اور بداعمالیوں سے کیسا ہی گندہ ہو گیا ہو۔اس کے لئے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔وہ جب بھی نیکی کی طرف جھکنا چاہے گا اس کی نیک فطرت اس کے گناہوں پر غالب آ جائے گی۔جیسے پانی کے