اصحاب احمد (جلد 9) — Page 244
۲۴۴ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت سے مشرف ہونے والے بزرگ اس امر سے واقف اور بخوبی آگاہ ہیں کہ حضور پر نور کی خدمت برکت میں جب کوئی صاحب بیعت کی نیت سے حاضر ہوتے درخواست بیعت کرتے تو عموماً حضور ان کو قبول فرما کر فوراً ہی بیعت لے لیا کرتے۔مگر بعض لوگ جب حضرت کی خدمت میں پہنچتے ، بیعت کی درخواست کرتے تو حضوران کو انتظار میں رکھتے اور آپ کچھ روز ٹھہریں کچھ دن اور صبر کریں۔فرما دیا کرتے تھے اور ایسا معلوم ہوتا کہ حضور کو ان کے متعلق کچھ تردد ہے انشراح نہیں جس کی وجہ سے حضور ان کے اصرار کے باوجود بھی ان کا معاملہ تعویق ہی میں ڈالے رکھا کرتے تھے۔اس کے علاوہ بعض واقعات ایسے بھی دیکھنے میں آیا کرتے تھے۔کہ کوئی صاحب بیعت کے لئے پیش ہوئے، حضور نے ان کو قبول فرما کر بیعت لے لی اور کوئی ایسا شخص بھی اس بیعت میں شامل ہو جایا کرتا جس کو حضور نے حالت انتظار میں رکھا ہوتا۔گو ایسا شخص بظاہر حضرت کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر اپنے آپ کو احمدیت میں داخل بھی سمجھ لیا کرتا۔مگر بعض دفعہ بعد کے واقعات سے جو کچھ ظاہر ہوا کرتا ان سے غلاموں کے ایمان میں تازگی اور عرفان میں زیادتی ہو جایا کرتی تھی۔اور ہم لوگوں پر ان واقعات کے نتیجہ میں یہ اثر غالب تھا کہ حضور کا فرمان اتقوا فراسة المومن “ کن حقائق کا مظہر ہے۔اور یہ حقیقت ہماری سمجھ میں آجایا کرتی تھی کہ اللہ کریم بعض اشخاص اور امور کے متعلق اپنے فضل سے حضور کو خاص طور سے علم عطا فرما دیا کرتا تھا، جس کی وجہ سے بعض لوگوں کی بیعت لینے میں تردد و تامل فرماتے ہیں۔اسی طرح اسلام سے مرتد ہونے والے عیسائیوں کے متعلق جو دوبارہ اسلام کی طرف لوٹنا چاہتے یا لوٹتے حضور کا قول حضور کی رائے اور فراست کا چرچا اور شہرہ جماعت میں عام ہے۔مگر بعض خوش بخت ، نیک نہاد یقیناً اس ذیل میں بھی مستثنیٰ ہیں۔جن کو حضور پر نور نے قبول فرمایا اور ان کو خصوصیت سے نواز کر شرف قرب بخشا۔چنانچہ انہی پاک نفسوں کی طرح اللہ تعالیٰ کے اس رسول علیہ الصلوۃ والسلام نے باوجود شدید روحانی بیماری میں مبتلا ہونے اور روحانی موت مر چکنے کے محمد دین کو بھی لاعلاج نہ سمجھا اور خدا کے عطا کردہ علم سے اس کے نیک انجام سے آگاہ ہو کر ہی اس کے لئے اتنی سخت محنت لمبا مجاہدہ اور اپنا قیمتی وقت صرف کیا تھا ور نہ حضور یقیناً اس پر اپنا سارا وقت خرچ نہ کرتے جس کے لئے خود خدا فرماتا ہے۔اَنتَ الشَّيْخُ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعَ وَقْتُهُ پس حضور نے محمد دین کے انجام نیک اور اس کی سعادت ہی کی وجہ سے اس کی توجہ فرمائی۔اس کے