اصحاب احمد (جلد 9) — Page 243
۲۴۳ اس طرح پھر سے ایک مرتبہ خدا نے محمد دین کو گویا کفر کے غار سے بچا کر دارالامان پہنچا دیا۔اور وہ اچھی طرح رہنے لگا۔خدا کے فضل نے جوش مارا۔رحمت الہی کے دروازے کھل گئے۔حضرت کی تو جہات مقبول ہوئیں۔دم مسیحائی میں تاثیر آئی۔اس روحانی مردے کی زندگی کے سامان ہونے لگے۔اس کی طبیعت نے پلٹا کھایا۔کفر کا زنگ اور شرک کی میل دھلنے لگی۔اور ہوتے ہوتے آخر خدا نے وہ دن دکھا دیا جب کلام ربانی أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ أَمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ کی تاثیر نے اپنا اثر دکھایا۔محمد دین کے دل کے جند رے کھل گئے۔خدا کے فرشتوں نے اس کے سینے کو چاک کر کے غلاظت نکال کر ایمان کا نور بھر دیا۔اور اس نے صدق دل اور انشراح صدر سے خدا کی توحید اور رسول کی رسالت کا کلمہ پڑھ کر کفر سے بیزاری اور اسلام کا اعلان کر دیا۔ج پھیلاں نے سجدات شکر کئے اور خدا کی حمد کے گیت گائے۔ہر طرف سے مبارک صد مبارک کی صدائیں بلند ہوئیں۔۔۔۔روحانی مردوں کے زندہ ہونے کا مطلب اور يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمُ کی عملی تفسیر اور زندہ نمونہ آنکھوں نے دیکھ لیا۔مسلمان ہو کر بھی ماں بیٹا کچھ دن رہے۔محمد دین نماز پڑھتا اور مسلمانی اعمال بجالاتا رہا اور وہ اب دل سے مسلمان تھا۔آخر حضرت کی اجازت سے پھیلاں اسے اپنے وطن لے گئی۔وہاں بھی وہ مسلمان ہی تھا۔عیسائی پادری اب اس سے مایوس ہو چکے تھے۔کیونکہ وہ قادیان سے روحانی زندگی اور ایمان کا نور پاچکا تھا۔اس طرح کچھ عرصہ وہ خوش و خرم رہا۔آخر بیماری نے پھر زور پکڑا۔غلبہ کیا اور چند روز کی بیماری کے بعد وہ بحالت اسلام اس دنیا سے کوچ کر گیا۔شیخ احمد دین صاحب ڈنگوی بعد میں میرے نسبتی بھائی بنے۔اس طرح مجھے قصبہ ڈنگہ سے ایک تعلق ورشتہ ہو گیا۔پھیلاں اور اس کا لڑکا بھی چونکہ میرے ان بزرگوں کے پڑوسی تھے اس وجہ سے ان حالات کا تفصیلی علم ہوا جسے میں نے امانت سمجھ کر پہنچا دینا ضروری سمجھ کر لکھ دیا ہے۔یہ واقعہ ۱۹۰۰ عیسوی سے قبل کا ہے۔ایک امر جس کا ذکر اس واقعہ کی مناسبت اور مضمون کی مطابقت کے باعث اسی جگہ مناسب وموزوں تھا مجھ سے لکھنارہ گیا ہے وہ یہ ہے کہ: