اصحاب احمد (جلد 9) — Page 121
۱۲۱ جن کی وجہ سے ہر گھر سنڈ اس اور کوچہ وگلی گندے نالے کا منظر پیش کرتے۔کوچوں کا یہ حال تھا کہ دن کی روشنی میں بھی دشوار گذار تھے بڑے بڑے کھنگر گلی کوچوں کو نا ہموار اور نا قابل عبور بنائے ہوئے تھے۔گندا پانی اور مویشیوں کا بول و براز ایسا تعفن اور عفونت پیدا کرتے کہ دماغ سڑا کرتا تھا۔بعض میلے بھی ہوا کرتے جن میں جاہلیت کے کمالات اور ہنر اور جو ہروں کا ایسا مظاہرہ ہوتا کہ شرافت تو در کنار انسانیت بھی سر پیٹ لیتی اور مارے ندامت و شرمندگی کے پانی بن کر بہ نکلتی۔خصوصاً میلہ قدم شریف جو کہ بستی کے بالکل متصل ہندو آبادی کے پاس لگا کرتا۔ایک رات اور دن لوگ دور دور سے آ کر ا کٹھے ہوتے۔رات کو آتے ہوئے مرد اور عورتوں کی ٹولیاں گند بکتیں اور جس طرح ننگے گیت گاتیں ان کے ذکر سے بھی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔بستی کے گلی کوچوں میں رات بھر وہ اودھم مچا کرتا کہ الامان الحفیظ لڑائی دنگا اور فساد جو عموماً چھیڑ خوانی کے نتیجہ میں ہوا کرتا۔سر پھٹول اور پکڑ دھکڑ پر منتج ہوا کرتا تھا۔عرب جاہلیت کے میلے جہالت اور بدتہذیبی کے لئے ضرب المثل سنے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ میلے ہر رنگ میں ان پر سبقت لے جایا کرتے تھے کیونکہ ان میلوں میں اکثر حصہ علم اور ادب، فصاحت اور بلاغت کے لئے وقف ہوا کرتا۔جوا بھی کھیلا جاتا تو اس کی تہہ میں غریب نوازی اور خدمت خلق کا جذبہ پنہاں ہوا کرتا تھا یا اخراجات جنگ کی فراہمی مدنظر ہوا کرتی۔مگر یہاں سرتا پا گالی گلوچ ، گرو اور ہنزلیات وبکواس، حیا سوز حرکات اور غیرت کش افعال جس پر طرفہ قمار بازی اور فتنہ وفساد۔خدا کی پناہ۔میں جس زمانہ کے چشم دید واقعات بیان کر رہا ہوں وہ ۱۳۲۱ھ یا ۱۸۹۵ء کا زمانہ ہے جبکہ یہ بستی خدا کے الہام اور کلام کے نزول اور سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے بعد کا زمانہ ہے اور اس زمانہ میں یہ بستی قادیان کی مقدس بستی بن چکی تھی۔نیک دل اور شریف تعلیم یافتہ لوگوں کا مرجع اور خداشناسی کا مرکز ہونے کی وجہ سے ترقی کی راہوں پر گامزن تھی اور بہت کچھ اصلاح بھی عمل میں آچکی تھی۔باوجود اس کے ان حالات کی موجودگی بستی کی کچھ ہی عرصہ پہلے کی حالت ابتر کی مظہر ہے کہ نوبت کہاں تک پہنچی ہوگی۔منگل سے جنگل گیدڑ، لومڑ اور بڑے بڑے بلے تو سر شام ہی غلاظت اور سنڈ اس کے ڈھیروں پر منڈلانے لگا کرتے تھے ان کے علاوہ بعض درندے اور وحوش رات کی تاریکی میں آتے اور بھیڑ بکری مرغی پلوں تک کو