اصحاب احمد (جلد 9) — Page 120
۱۲۰ آ گیا تو خیر ورنہ وہ بھی گھر کی مرغی دال برابر چاروناچاریوں چکادی جاتیں۔یہی حال بتاشے مٹھائیوں کا ہوا کرتا ( کسی مسافر پر دیسی کو سیر بھر آٹے کی ضرورت ہوتی تو ملنا محال ہوتا کیونکہ ضرورت زندگی کی خرید وفروخت کے ذرائع بھی مفقود تھے۔چکی اس زمانہ میں گھروں کی زینت اور زیور شمار ہوا کرتا تھا۔آدھی رات پیچھے ہر گھر سے گھر گھر کی میٹھی اور سہانی لوری کے ساتھ کچھ گنگنانے اور گانے کی سریلی آواز میں کتنی شیریں اور بھلی معلوم دیا کرتی تھیں ) الغرض بازار نام کو تھے دو۔مگر کام کی کوئی چیز یا ضرورت کا کوئی سامان قطعا میسر نہ آ سکتا تھا۔بالکل معمولی معمولی ضروریات زندگی کے لئے بٹالہ امرتسر اور لاہور جانا ہوتا تھا۔اور تو در کنار زمینداری ضروریات مثل بیج بنولے تک لوگ بٹالہ سے سروں پر اٹھا کر لایا کرتے۔علاقہ کی پیداوار بھی بمشکل فصل کے ایام میں مل سکتی تھی۔بنئے ، مہاجن اور ساہوکار شہروں کو لے جاتے تو چند ہی روز بعد پھر بیچارے کسانوں اور مزدوروں بلکہ ہر طبقہ کے لوگوں کو شہروں سے جا کر لانی پڑتی تھیں۔گوشت اور سبزی کا بھی یہی حال تھا۔قصاب دوسرے تیسرے روز بکرا کرتے وہ بھی نہ بکتا تو دیہات میں لے جا کر قرض دام یا غلہ نکلنے کے وعدہ پر ادھار دے آتے گوشت ایسا خراب ہوا کرتا کہ دیکھنے کو جی نہ چاہتا، قصابوں کی بڑی جائیداد کالی بھیڑیں ہوا کرتی تھیں۔بکر اشاذ و نادر۔افعال قبیحہ کا ارتکاب بے کاری عام تھی۔کیونکہ کام کے لوگ اپنی عزت و آبرو بچانے کی غرض سے بستی کو چھوڑ کر جاچکے تھے۔پیچھے بے کار یا بد قماش رہ گئے تھے یا سست اور کاہل۔کام کے لوگ نکل گئے تو نکھے پڑے رہے۔جس کے نتیجے میں مختلف قسم کی عادات قبیحہ اور افعال شنیعہ میں لوگ مبتلا تھے۔قمار بازی کا بازار گرم رہتا جس کے کئی اڈے قائم تھے۔گردونواح کے بد قماش اور آوارہ لوگ آتے۔پولیس چھاپے مارتی۔لوگ دیوالیہ اور کنگال ہوا کرتے تھے۔رونق ہوا کرتی ٹھیکہ کی دوکانوں پر ، ام الخبائث کا ٹھیکہ موجود۔بھنگ چرس گانجا کے دم لگا کرتے اور چنڈو کا استعمال ہوتا۔افیون اور دھتورہ کا استعمال بھی عام تھا ( چانڈ وغیرہ کے دم لگنے عموماً سر بازار دیکھنے میں آیا کرتے تھے۔( حقہ نوشی اور میکشی و میفروشی کی کوئی انتہانہ تھی اور ان کے نتائج تلخ بھی لوگوں کو چکھنے پڑا کرتے تھے۔صفائی کا یہ حال تھا کہ جابجا کوڑا کرکٹ اور نجاست کے تو دے گوبر اور گندگی کے انبار لگے رہا کرتے