اصحاب احمد (جلد 9) — Page 122
۱۲۲ اٹھا کر لے جاتے۔احمد یہ چوک کے شمال مشرقی کو نہ کی دکان جس میں آج کل شیخ احمد دین صاحب ڈنگوی بیٹھے ہیں۔کسی وقت حضرت نواب صاحب قبلہ کا باورچی خانہ تھا۔جس کے آگے ایک پھاٹک لگا ہوا تھا۔گوشت چونکہ عموماً یہاں خراب ملا کرتا۔اور بعض اوقات ضرورت کے وقت مل ہی نہ سکتا تھا۔لہذا حضرت نواب صاحب کے ہاں اس کا انتظام رہتا۔ایک رات کا ذکر ہے کہ بکرا وہاں بند تھا رات کو ایک بھیڑیا آیا اس نے پھاٹک کا ایک حصہ تو ڑا اور بکرا اٹھا کر لے گیا۔اس سے بھی بڑھ کر ایک اور چشم دید واقعہ سناتا ہوں۔ایک روز دن دہاڑے ایک لمبے دانتوں والا جنگلی خنزیر شرقی ڈھاب میں پانی پی اور نہا کر شکتہ فصیل کی راہ سے جہاں آج کل حضرت عرفانی صاحب کا مکان اور دفتر الحکم ہے بستی میں داخل ہوا اور سیدھا ایک شخص مسمی دھتو کے گھر میں جا گھسا جہاں اس کی بیوی بیٹھی چرخہ کاٹ رہی تھی۔عورت اس بدصورت خونخوار بد ( یعنی سور ) کو دیکھ کر گھبرائی۔گھبراہٹ میں اور کچھ نہ بن پڑا تو ہاتھ سے دھتکارنے لگی۔اس نے ہاتھ پکڑ کر چبالیا، اور پھر شور وغوغا سے خائف ہو کر گاؤں کے گلی کوچوں میں سے ہوتا ہوا بستی کے غربی جانب سے نکل کر گنے کے گیت میں جا گھسا اور آخر شکاری کتوں اور شکاریوں کا شکار ہو کر اس جرات کی پاداش کو پہنچا۔بھیڑیا جسے پنجابی میں بگھیاڑ کہتے ہیں اس کثرت سے ہو گیا تھا کہ موجودہ اسیٹشن اور بستی کے درمیان ایک جو ہر کا نام ہی بگھیاڑاں والا چھپڑ مشہور تھا۔نہ صرف یہی بلکہ گاؤں کے بعض حصے ویرانی و بربادی کے باعث اتنے بھیانک اور ڈراؤنے ہو چکے تھے کہ بھوت چڑیل کا مرکز کہلاتے۔جہاں دن دیہاڑے لوگ جانے سے گھبرایا کرتے تھے۔اس طرح گویا یہ بستی جو ایک قوم کے ذریعہ جنگل سے منگل بنی تھی دوسری قوم کے ذریعہ پھر تنزل کر کے منگل سے جنگل، آباد سے ویران اور علم و فضل ، ہنر و حکمت اور نیکی وتقوی کی بجائے جہالت اور رذالت، بیکاری و خجالت اور بدی و بد کرداری کا مرکز ہو چکی تھی۔جہاں علم رہا نہ دولت، تجارت رہی نہ حرفت، زراعت رہی نہ حکمت و غفلت، ستی بریکاری و بیماری اور بدی و بدکاری کا دور دورہ اور جہالت و ضلالت کا عملی تسلط تھا۔جنگلی جانوروں اور درندوں کی وجہ سے کھیتیاں برباد ہوا کرتیں۔اور یہی وجہ تھی کہ شکاری لوگ اور شکاری کتے ان دنوں قادیان میں کثرت اور عزت سے پالے اور رکھے جاتے تھے۔ذرائع آمد و رفت کا فقدان بات لمبی ہوتی جاتی ہے مگر بے کہے تسلی ہوتی ہے نہ حقیقت کھلتی ہے لہذا نہایت ہی اختصار سے