اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 92 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 92

۹۲ حضرت اقدس کی نصیحت بھائی جی کو ان کے والد صاحب کے بارے میں والدین کی دلجوئی کے بارے بھائی جی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نصیحت فرماتے تھے۔چنانچہ جب ۷/ نومبر ۱۹۰۲ء کو بروز جمعہ ایک مقدمہ کے سلسلہ میں حضور نے بٹالہ تشریف لے جانا تھا۔اس بارے میں مرقوم ہے کہ بجے صبح کے قریب حضرت اقدس بالا خانہ سے تشریف لائے۔نواب محمد علی خاں صاحب کی رتھ تیار تھی۔تمام مہاجرین اور مدرسہ کے طلباء رتھ کے اردگرد جمع تھے۔سوار ہونے کے لئے عرض کیا گیا۔فرمایا کہ تھوڑی دور تک ہم پیدل چلتے ہیں کیونکہ یہ تمام لوگ بھی ساتھ ہیں۔تمام صاحبزادگان جو کہ اپنے ابا کے ہمراہ جانے کے بہت مشتاق تھے سوار ہو گئے۔اور حضرت احباب کے ساتھ پا پیادہ قصبہ کے باہر نکل کر تھوڑی دور تک گئے تو درخواست کی گئی کہ وقت تھوڑا ہے۔مہمان اور احمدی احباب اور طلباء نے مصافحہ کیا اور پھر آپ سوار ہو گئے۔ایڈیٹر بدر لکھتے ہیں: جن چند ایک احباب کو حضرت اقدس نے ساتھ چلنے کی اجازت فرمائی تھی۔وہ تین یکوں میں سوار ہوئے۔لیکن بعض نے اسی وقت رخصت حاصل کی۔اور بوجہ نہ میسر ہونے یکہ کے پا پیادہ حضرت کی رتھ کے ساتھ ہم رکاب ہوئے۔ان میں سے ایک شیخ عبدالرحمن صاحب نو مسلم قادیانی مدرس مدرسه تعلیم الاسلام قادیان تھے کہ جنہوں نے میری ( یعنی ایڈیٹر کی۔ناقل ) درخواست پر آج کے دن کی ڈائری مرتب کر کے مجھے عنایت کی ہے۔بہت شوق ولولہ سے انہوں نے حضرت اقدس کی ہر ایک حرکت اور سکون پر محبت سے بھرے ہوئے الفاظ میں ریمارک کئے ہیں۔۔۔۔۔۔آپ نے ایک اور طالبعلم کو جو پا پیادہ ہمراہ تھا فرمایا کہ تم کو تو یونہی تکلیف ہوئی۔تھوڑی دیر شاید ٹھہرنا ہوگا۔سفر کی کوفت میں تم خواہ مخواہ ہمارے شریک ہو گئے۔پھر ایسی ہی دلجوئی حضرت اقدس نے میاں عبد الرحمن صاحب کی کی۔انہوں نے جواب دیا کہ حضور اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضور کی دعا اور برکت سے میں اچھی طرح چلنے کا عادی ہوں۔حضور کے ساتھ ساتھ چلنے کی میری دلی آرزو تھی۔سوخدا نے پوری کی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ مجھے بھی بہت عادت تھی مگر جب سے یہ عارضہ اور بیماریاں لاحق ہوئی ہیں۔تب سے یہ امر ہی رہ گیا ہے۔