اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 91 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 91

۹۱ جہاں اس زمانہ میں عموماً عیدین اور نماز جنازہ ہوا کرتی تھی۔کوئی جنازہ پڑھایا جس کو آپ کا جنازہ سمجھ کر پڑھا اور دعائیں کی تھیں۔میں چونکہ بیماری کی حالت ہی میں قادیان سے گیا تھا بعض کو یہی خیال گذرا کہ میں فوت ہو گیا ہوں۔مگر اللہ کریم اپنے فضل سے زندہ سلامت حضور کی خدمت میں لے آیا۔پھر حضور نے بہت ذرہ نوازی فرمائی حتی کے آخری سفر یعنی سفر لاہور میں بھی ہمرکابی کی توفیق بخشی اور توفیق رفیق فرمائی کہ جی کھول کر خدمت کر لوں۔اور اس کے فضلوں سے جھولی بھر لوں۔چنانچہ میرے آقا نے بھی مجھے نوازا اور اتنا نوازا کہ ہر موئے بدن ان احسانات کے بار تلے جھکا اور سر تسلیم خم کئے ہے۔ان الطاف کریمانہ اور نوازشات شاہانہ کی یاد دل کے ہر گوشہ میں تازہ اور جوش عقیدت و نیازمندی میں وفا کی تمنا سے لبریز ، خون کو پانی کی طرح بہا دینے پر کمر بستہ اور تیار رکھتا ہوں۔ع این است کام دل اگر آید میسرم بقیہ حاشیہ: - ( طبع اول جلد ہذا سے دو سال پہلے بڑ کا درخت صدر انجمن احمدیہ نے فروخت کر دیا تھا۔یاد گار کے طور پر صرف اس کا تنا پندرہ بیس فٹ رہنے دیا گیا تھا لیکن چند سال میں وہ انتہائی بوسیدہ ہو کر گر گیا۔بھائی جی کی اہلیہ محترمہ کا بیان ہے کہ شادی ہو کر جب میں پہلی بار قادیان آئی تو اس تکیہ کے مشرقی طرف بمقابل احاطہ مکان حضرت مولوی عبد المغنی خاں صاحب، چند قبریں نظر آتی تھیں۔(از مؤلف ) تقسیم ملک سے کافی عرصہ پہلے تکیہ حسینا والے مقام پر صدرانجمن احمدیہ نے چاردیواری بنا کر اس کے جنوب مغرب میں کچھ کمرے تعمیر کئے تھے اور پہلے یہ احاطہ بطور زنانہ جلسہ گاہ کے استعمال ہوتا تھا۔بعد ازاں جلسہ سالانہ کے ایام میں یہ احاطہ و غیرہ بطور لنگر خانہ اندرون شہر کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور اس کے شمالی حصہ میں تنور لگائے جاتے تھے۔تقسیم ملک کے بعد ۱۹۴۸ء سے مردانہ جلسہ گاہ اسی جگہ ہوتا رہا اور زنانہ جلسہ جنوب کی طرف سڑک کے پار احاطہ میں منعقد ہوتا رہا جو مکان حضرت مولوی عبد المغنی خاں صاحب کا شمالی حصہ ہے۔طبع دوم جلد ہذا سے چند سال پہلے مغرب کی طرف حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب کا مکان ہے۔اس خالی جگہ پر اب چند سال پہلے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا دفتر تعمیر کیا جاچکا ہے۱۹۹۰ء کا جلسہ سالانہ خواتین بڑے باغ میں اور مردانہ جلسہ سالانہ محلہ ناصر آباد کے مشرق کی طرف کے ملحقہ میدان میں منعقد ہوا اور پرانی جلسہ گاہ تکیہ حسینا والے مقام پر تنور لگائے گئے۔