اصحاب احمد (جلد 9) — Page 93
۹۳ و پھر حضرت اقدس میاں عبدالرحمن صاحب سے ان کے والد صاحب کے حالات دریافت فرماتے رہے۔۔۔۔اور ( حضور نے ) نصیحت کی کہ ان کے حق میں دعا کیا کرو۔ہر طرح سے حتی الوسع دلجوئی والدین کی کرنی چاہئے۔اور ان کو پہلے سے ہزار چند زیادہ اخلاق اور اپنا پاکیزہ نمونہ دکھا کر اسلام کی صداقت کا قائل کرو۔اخلاقی نمونہ ایسا معجزہ ہے کہ جس کی دوسرے معجزے برابری نہیں کر سکتے۔بچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر ہو جاتا ہے۔اور وہ ایک ممیز شخص ہوتا ہے۔شاید خدا تمہارے ذریعہ سے ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈالے۔اسلام والدین کی خدمت سے نہیں روکتا۔دنیوی امور میں جن سے دین کا حرج نہیں ہوتا ان کی ہر طرح سے پوری فرمانبرداری کرنی چاہئے۔دل و جان سے ان کی خدمت بجالا ؤ۔نو بجے کے قریب بٹالہ کے متصل ایک باغ میں پہنچے لوگوں کا ایک ہجوم ہو گیا۔اور کچہری کا عملہ تک زیارت کے لئے آ گیا۔حضرت اقدس۔۔۔احباب کے حلقہ میں فرش پر تشریف فرما ہوئے۔اور کھانا جو کہ ہمراہ لایا گیا تھا دستر خوان پر چنا گیا۔66 " ( کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ) پھر اور لوگ ملاقات کے لئے آگئے۔اور شہادت کے بارے میں کہا کہ حضور کو یونہی تکلیف ہوئی۔حضرت اقدس نے فرمایا۔زمین پر کچھ نہیں ہوتا جب تک آسمان پر نہ ہو۔شہادت سے اظہار حق مراد ہوتا ہے۔اور اگر اس سے کسی کو (غالباً فائدہ۔ناقل ) پہنچے تو کیوں نہ پہنچائے۔شہادت تو ایک بہانہ تھا۔ورنہ اصل غرض اللہ تعالیٰ کی بعض لوگوں کو فائدہ پہنچانا تھا۔سودہ پہنچ گیا۔مالیر کوٹلہ میں قیام حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے عرض کرنے پر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر حضرت مولوی نورالدین صاحب ۱۸۹۶ء میں مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے تا کہ نواب صاحب کو قرآن مجید پڑھا ئیں۔حضرت مولوی صاحب کے کئی ایک شاگرد بھی آپ کے ہمراہ وہاں رہے اور تعلیم حاصل کرتے رہے۔ان میں حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب بھی تھے۔بھائی عبدالرحمن صاحب والدین سے نجات حاصل کر کے قادیان آئے تھے۔کمسن تھے۔بھائی