اصحاب احمد (جلد 9) — Page 86
۸۶ دست قدرت کے بغیر نہ ہو سکتا تھا۔اور حضرت اقدس کی تو جہات کریمانہ اور دم مسیحائی کا یہ ایسا ہی نتیجہ تھا جیسا کہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے صاحبزادہ عبد الرحیم خان صاحب خالد اور حضرت مولوی شیر علی صاحب اور میاں عبدالکریم صاحب حیدر آبادی کی صحت یابی ان سب کی زندگیاں بھی حضور کے انفاس قدسیہ معجز نما تو جہات کی رہین منت تھیں۔حضور کی خدمت میں روزانہ رپورٹ عرض کی جاتی رہی۔اور حضور کی زبان مبارک سے جو الفاظ نکلے وہ پورے ہوئے۔اور صحت بڑھنے لگی۔حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب کا علاج جاری رکھو۔احتیاط اور پر ہیز لازمی ہے ورنہ مرض کے عود کر آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔حضرت مولوی صاحب کے مکان میں منتقل ہونا ایک روز میں گرتا پڑتا مطب میں پہنچا اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں پہنچا تا زبانی ساری کیفیت عرض کر کے نسخہ تبدیل کر اسکوں۔نیز ایک خیال جو ایک دو روز سے بڑے زور کے ساتھ میرے دل و دماغ پر مستولی تھا عرض کر کے مفید ہدایت پاسکوں۔یہ آیت وَ سَكَنْتُمْ فِي مَسْكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ - کے مدنظر جہاں میں ان دنوں رہتا ہوں مجھے خوف لاحق ہے۔حضرت مولوی صاحب نے یہ بات سن کر پیار سے ہاتھ بڑھایا اور میری پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے مجھے اس جگہ کو چھوڑ کر اپنے مکان کے ایک حصہ میں چلے آنے کو فرمایا۔اور ساتھ ہی کہا کہ وہ جگہ بھی چھٹ جائے گی اور مجھے عیادت کا بھی موقعہ ملتار ہے گا۔واقعی یہ نکتہ معرفت اور مقام خوف ہے۔چنانچہ میں حضرت مولوی صاحب کے مکان میں آ گیا۔جہاں مجھے زیادہ آرام کے ساتھ علاج کی بھی زیادہ سہولت میسر آ گئی۔کیونکہ حضرت مولوی صاحب قریبا روزانہ ہی مجھے دیکھ لیا کرتے اور مناسب ہدایات دے دیا کرتے تھے۔والدہ محترمہ کی آمد والدہ محترمہ کی خدمت میں اپنے قبول اسلام کے بواعث کے متعلق جو خط لکھا تھا اور جس سے وہ بہت متاثر ہوئی تھیں۔تو انہوں نے مجھے لکھا تھا کہ اپنی خیریت کی اطلاع دیتا رہوں۔چنانچہ ایسی خط وکتابت جاری ہونے کے بعد اس بیماری میں کئی ماہ تک خط نہ پہنچنے سے ان کو گھبراہٹ ہوئی اور انہوں نے جلد جلد