اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 87 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 87

AL دو تین خط لکھے۔جن کے جواب میں میں نے کسی سے بیماری کا حال لکھوا دیا۔اس پر وہ تن تنہا بٹالہ پہنچیں اور راستہ میں دریافت کرنے پر یکہ بان یا کسی سواری نے میری نازک حالت کا ذکر کر دیا۔جس پر والدہ نے وہیں سے رونا شروع کر دیا اور سارے راستہ روتی ہی چلی آئیں۔پوچھتی ہوئی گلی کوچوں سے گذر کر احمد یہ چوک میں پہنچیں جہاں سے کسی بچہ سے پوچھا اور نہ معلوم اس نے میری پہلی قیام گاہ خالی دیکھ کر کیا کہہ دیا کہ ان کا رونا آہ وفغاں اور بین کا رنگ اختیار کر گیا اور ان کے رونے چلانے پر کئی لوگ اور لڑ کے جمع ہو کر گریہ و بکا کی وجہ دریافت کرنے لگے۔اور آخر کسی نے ان کو میرے زندہ سلامت ہونے کی خبر سنا کر تسلی دلائی اور میرے پاس پہنچا دیا۔وہ آئیں اور مجھ سے لپٹ کر دل کا سارا ہی بخار انہوں نے نکال لیا۔جس کے نتیجہ میں فطرتا مجھ پر رقت طاری ہوئی اور کچھ دیر آنسوؤں کی چھما چھم بارش جاری رہی۔والدہ محترمہ پر نیک اثر اور باجازت سوئے وطن سفر والدہ محترمہ ہفتہ عشرہ میرے پاس رہیں ان کے قیام وطعام کا انتظام ان کے حسب دلخواہ علیحدہ کر دیا گیا۔اس عرصہ میں انہوں نے خاص احتیاط محنت اور توجہ سے میرا علاج کروایا۔اور خوراک وغیرہ بھی حسب ہدایت حضرت مولوی صاحب خود تیار کر کے مجھے کھلاتی پلاتی رہیں۔اور اس طرح ان کی وجہ سے میری طبیعت جلد جلد سنبھلنے لگی۔وہ خاندان حضرت مسیح موعود کی بیگمات سے بھی ملیں۔اور دوسری احمدی خواتین سے بھی خلا ملا رہا۔جس کے نتیجے میں وہ مانوس ہو کر خوش اور مطمئن رہیں۔اور میری بیماری اور بیماری میں خبر گیری اور ہمدردی کے واقعات سن سن کر تو شکر گزاری کا جذبہ ان میں پیدا ہو گیا۔اور وہ سیدنا حضرت اقدس اور حضور کے خاندان کے ساتھ ہی حضرت مولوی صاحب اور ان کے اہل بیت کی شکر گزار اور احسان مند ہوئیں۔اس خلا ملا سے جہاں ان کے کئی قسم کے خوف اور غلط فہمیاں اطمینان سے بدل گئیں وہاں میرے مربیوں اور محسنوں نے والدہ کی طبیعت اور دلی کیفیت کا مطالعہ کر لیا۔اور اس طرح تعلقات باہم خوشگوار ہو گئے۔بھائی جی کا بیان ہے کہ حضرت اماں جان کے اخلاق عالیہ کا والدہ صاحبہ پر بہت ہی مفید اثر پڑا۔لیکن یہ ملاقات کسی بعد کے موقعہ کی معلوم ہوتی ہے۔آپ لکھتے ہیں:۔”میری حقیقی والدہ اپنی مامتا سے مجبور ہو کر ایک سے زیادہ بار مجھے واپس لے جانے کے لئے