اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 37 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 37

۳۷ سواری یکوں ہی کی ہوا کرتی تھی۔بڑی کوشش اور انتظام سے دویا تین یکے کرائے گئے اور سفر کی تیاری ہوئی۔ساتھیوں کے نام تجویز ہونے لگے۔میرا نام بھی پیش ہوا۔مگر حضور پاک نے فرمایا۔جس کا مفہوم میرے الفاظ میں یہ ہے کہ ان کے گاؤں کا قرب ہے ایسا نہ ہو کوئی رشتہ داران کو دیکھ کر پیچھے پڑ جائے اور ہمارے سفر کی غرض ہی فوت ہو جائے۔بہتر یہی ہے کہ وہ نہ جائیں۔چنانچہ اس طرح میں اس مبارک سفر میں ہمرکابی کے شرف سے محروم رہ گیا۔اس سفر سے واپسی پر سید نا حضرت اقدس بہت ہی خوش تھے۔اور اس تبلیغی دریافت کا ذکر اس طرح مجلس میں فرمایا کرتے جس طرح کوئی دنیا دار کسی بھاری خزانہ کے حصول سے خوش ہو۔چنانچہ اکثر ایسے ہی مسائل کا چرچا ان دنوں ہوا کرتا تھا۔اور قادیان کے دن اور رات تنہائی اور مجالس۔تبلیغی جد و جہد اور روحانی خزائن کی دریافت و اشاعت کے لئے ہی وقف رہتے تھے۔والد تلاش میں پریشان وسرگرداں ان کا ور و دقادیان اسی زمانہ کا ذکر ہے کہ ایک رات میں مطب میں سویا ہوا تھا اور صبح کو اپنی کیفیت کے مدنظر بھی یہی اندازہ کرتا ہوں کہ خاص سردی کے ایام تھے۔میرے قریب مرزا محمد اشرف صاحب کے والد بزرگوار حضرت منشی جلال الدین صاحب مرحوم جو ایک نہایت ہی نیک دل پاک نفس اور عبادت گذار انسان تھے اور انہی کی تبلیغ اور صحبت میں حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب مسلمان ہوئے تھے۔میرے قریب ہی ان کی چار پائی تھی۔وہ چار پائی پر نماز تہجد ادا کر رہے تھے۔اس رات اسی وقت میں نے ایک منذر رؤیا دیکھی جس کے اثر سے میں تڑپ کر اٹھ بیٹھا اور میری اس گھبراہٹ کا ایسا اثر ظاہر تھا کہ منشی صاحب مرحوم نے حضرت منشی جلال الدین صاحب کا نام ضمیمہ انجام آتھم میں فہرست تین سو تیرہ صحابہ میں نمبر اول پر ہے۔آپ کی وفات اگست ۱۹۰۲ء میں قیام بہشتی مقبرہ سے پہلے ہوئی۔معین تاریخ آپ کی اولاد کے ہاں بھی محفوظ نہیں۔آپ کی شدید خواہش تھی کہ حضرت اقدس علیہ السلام کے قدموں میں آپ کی وفات ہو لیکن شدید بارش ہو گئی جس کے بعد کمزوری زیادہ ہو گئی۔آپ نے اپنے وطن بلانی میں وفات پائی اور و ہیں مسجد کے احاطہ میں دفن کئے گئے۔اخویم مرزا محمد یعقوب صاحب کا رکن تحریک جدید ربوہ ( آپ کے پوتے ) کا بیان ہے کہ شنید ہے کہ آپ کی قبر گرنے والی ہے اور میں نے سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ سے بہشتی مقبرہ قادیان اور ربوہ میں ان کا کتبہ لگوانے کی اجازت ۱۹۵۶ء میں حاصل کر لی تھی۔