اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 36 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 36

۳۶ ۵۔قادیان پہنچنے سے قبل سیالکوٹ کی رہائش کے زمانہ میں جب مجھے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دو ایک کتب کا مطالعہ نصیب ہوا اور سیالکوٹ کے احمدی سادات فیملی کی مجالس میں حضور کے ذکر اذکار اور دعاوی سننے میں آئے (سیالکوٹ میں رہائش کے لئے اللہ کریم نے سکے زیاں کا وہ بالا خانہ مجھے نصیب فرمایا جس میں کبھی سیدنا حضرت اقدس بھی قیام فرما چکے تھے۔اور جو آجکل مسجد سکے زئیاں بہ ککے زئیاں کے بالمقام حید ر منزل کے نام سے موسوم ہے۔) تو ان دنوں میں اس خیال پر تھا کہ قادیان جا کر ا ظہا ر ا سلام کروں گا اور ان فقیر مرد بزرگ کے سامنے نذر نیاز پیش کر کے واپس چلا آؤں گا۔مگر جب اللہ کریم نے اس نورانی چہرہ اور صاحب نور نبوت ورسالت کے قدموں میں لا ڈالا۔صبح کی سیر، شام کا دربار۔اور ظہر و عصر کی مجلس و صحبت میسر آئی۔تو وہ پہلا خیال دل سے دھل گیا۔اور میں دنیا جہان سے بے نیاز ہو کر اس دور کا ہو گیا۔دھونی مار کر بیٹھا اور خدا نے ایسا فضل فرمایا کہ اس در کی گدائی۔دنیا جہان کی دولت و ثروت سے ہزار گنا بہتر نظر آئی۔اور خدا کا فضل ہوا کہ آخر میں اسی در کا ہو گیا۔یہیں پرورش پائی اور اسی دروازہ سے اسلام سیکھا اور دولت ایمان پائی۔فالحمد للہ۔گو اس طرح میں ابتداء ہی سے اپنے آپ کو اسی در کا غلام یقین کرتارہا اور مفہوم بیعت میں ابھی اسی نظریہ پر قائم ہو گیا تھا۔مگر سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش پر کہ لوگ خدمت اسلام کے لئے وقف کریں اپنے آپ کو میں نے بھی لبیک کہی اور ہمیشہ اس خیال سے پڑا ر ہا۔پھر خلافت ثانیہ کے ابتدائی ایام میں امیر المومنین حضرت اقدس خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی جب تحریک وقف کا اعلان فرمایا تو اس وقت بھی میں نے دل سے لبیک کہی۔گول کمرہ میں حضور پر نور نے واقفین کو بازیابی کا شرف بخش کر ہدایات دیں اور واقفین کو قبول فرمایا۔میں بھی اس زمانہ سے لبیک لبیک کہتے ہوئے وقف ہوا اور پہلے عزم، ارادہ اور نیت کو اور زیادہ پختہ کر کے جب سے اب تک اس عہد پر قائم ہوا ہوں۔خدا کرے شرف قبولیت سے بھی نوازا جاؤں۔آمین ثم آمین۔“ حضرت اقدس کا سفر ڈیرہ بابا نانک (۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء) سکھوں میں تبلیغ کی طرف سید نا حضرت اقدس کی توجہ اس زمانہ میں خاص طور سے تھی اور حضور کتاب ست بچن، تصنیف فرما رہے تھے۔جس کے واسطے مصالحہ جمع کرنے کے لئے سکھوں کی کتب کی چھان بین ہورہی تھی اور اسی ذیل میں حضور کو ڈیرہ بابا نانک چولہ صاحب دیکھنے کی غرض سے جانا پڑا۔اس زمانہ میں