اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 38 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 38

۳۸ مجھ سے فرمایا۔کیوں میاں عبدالرحمن ! کیا بات ہے۔مگر میں نے اصل بات بتائے بغیر ہی عرض کیا۔خیر ہے نماز کے لئے اٹھا ہوں۔“ خواب میں مجھے دکھایا گیا کہ ایک بار یک لمبا سانپ میری طرف آ رہا ہے اور جب وہ میرے قریب آیا تو حضرت مولانا نورالدین صاحب نے ایک لاٹھی اس کو ماری مگر وہ لاٹھی کے نیچے سے بالکل صفائی کے ساتھ زندہ نکل کر سیدھا میری طرف بڑھا اور میرے جسم کے گرد لپٹ گیا۔اس نظارہ اور سانپ کا میرے گرد لپٹ جانے کی وجہ سے مجھ پر ایسی گھبراہٹ اور پریشانی ہوئی کہ میں نیند سے ایسا چونک کر اٹھا کہ حضرت منشی صاحب موصوف نے بھی میری بیداری کو غیر معمولی گھبراہٹ پر محمول کیا۔اٹھا،استغفار کیا۔دو چار نفل پڑھے۔مسجد میں صبح کی نماز ادا کی اور واپس آ کر اپنا قرآن شریف لے کر جو کہ حضرت اقدس کے کتب خانہ میں پیر جی سراج الحق صاحب کے پاس ( مطب کے شمال مشرقی کو نہ کی کوٹھڑی میں ) رکھا تھا۔مطب کی چھت پر تلاوت کرنے کو تھا کہ پیر جی نے ایک منی آرڈر کر آنے کو کہا میں نے ایک دو تہی اوڑھی ہوئی تھی جس سے یقیناً سردی کا موسم معلوم ہوتا ہے۔پوسٹ آفس اس حضرت پیر سراج الحق صاحب صاحب گدی نشین تھے۔آپ ۱۹۸۸۲ء میں پہلی بار قادیان تشریف لائے۔ازالہ اوہام حصہ دوم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کے اخلاص کی تعریف فرمائی ہے۔تذکرہ المہدی مطبوعہ اور قلمی میں آپ نے حضرت اقدس کے متعلق ایک قابل قدر مجموعہ روایات جمع کیا۔جس کے اقتباسات ”تذکرہ میں بھی درج ہوئے ہیں۔۳ /جنوری ۱۹۳۵ء کو آپ فوت ہوئے اور بلا وصیت بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کئے گئے۔اللهم اغفر له و ارحمه_آمین۔بقیہ حاشیہ : حضرت مرزا محمد اشرف صاحب نے ۱۸۹۵ء میں بیعت کی۔۱۹۰۶ء میں ہجرت کر کے قادیان آگئے اور صدرانجمن احمدیہ کے دفاتر میں محرر، آڈیٹر اور محاسب اور ناظم جائیداد کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔آپ کے دامادا خویم مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر (ہیڈ زودنویس ربوہ ) سے معلوم ہوا کہ حضرت موصوف کا ۱۴ نومبر ۱۹۴۷ء کو بروز جمعہ ہم مقام جہلم انتقال ہوا اور آپ وہیں مدفون ہیں۔آپ موصی تھے۔مگر اس وقت چونکہ ابھی ہجرت کا صدمہ بالکل تازہ تھا اور جماعت کے افراد منتشر تھے۔کسی کو خیال تک نہ آیا کہ نعش کو لکڑی کے بکس میں بند کر کے دفن کیا جائے۔آپ کی وفات سے ایک عرصہ قبل خواب میں بتایا گیا تھا کہ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب (وفات بمقام قادیان بتاریخ ۳ /جون ۱۹۴۷ء) اور حضرت مولوی شیر علی صاحب ( وفات بتاریخ ۱۳/ نومبر ۱۹۴۷ء) کی وفات کے بعد آپ کی