اصحاب احمد (جلد 9) — Page 355
۳۵۵ ۲۰۸ محدود نہیں رہ سکتے۔بلکہ یہ دنیا کی رہنمائی کیلئے ستارے ہیں۔ہماری آج کی باتوں سے بھی آئندہ نسلیں اور فقہاء بڑے بڑے مسائل کا استنباط کریں گے۔مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء میں حضور نے فرمایا کہ ”ہماری مجلس شوری کی عزت۔۔۔اس مقام کی وجہ سے ہے جو خداتعالی کے نزدیک اسے حاصل ہے۔۔۔۔۔وقت آئے گا اور ضرور آئے گا جب دنیا کی بڑی سے بڑی پارلیمیٹوں کے ممبروں کو وہ درجہ حاصل نہ ہوگا جو اس (شوری) کی ممبری کی وجہ سے حاصل ہوگا۔اس مجلس کی ممبری اتنی بڑی عزت ہے کہ اگر بڑے سے بڑے بادشاہ کو ملتی تو وہ بھی اس پر فخر کرتا۔اور وہ وقت آئے گا جب بادشاہ اس پر فخر کریں گے۔بوقت تقسیم (برصغیر ) صحابہ کرام کو دعاؤں کی تحریک تقسیم برصغیر ہونے کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے ۲۹ / اگست ۱۹۴۷ء کو مسجد مبارک میں خطبہ جمعہ میں اس وقت کے حالات کے پیش نظر ہدایات میں یہ بھی تلقین فرمائی کہ دعاؤں میں کمی نہ آنے دی جائے۔اسی روز ہی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اکتیس صحابہ کو جن میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بھی شامل تھے۔خاص طور پر تحریک فرمائی کہ وہ حضرت مصلح موعود، مرکز سلسلہ اور جماعت کی حفاظت کیلئے دعائیں کریں اور آگے دوسرے اصحاب اور اپنے اہل وعیال میں بھی یہی تحریک کریں اور اگر کوئی امر ظا ہر ہو تو مطلع فرمائیں۔درویشان میں آپ کی مبارک شمولیت -1 الدا۔۔تقسیم برصغیر کے حالات میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی مرکز قادیان کو آباد و فعال رکھنا چاہتے تھے۔چنانچہ آپ نے ایک تقریر میں فرمایا کہ مشرقی پنجاب سے اسلام کا نام مٹادیا گیا ہے۔ہزاروں ہزار مسجد میں آج بغیر نمازیوں کے ویران پڑی ہیں جن میں جوئے کھیلے جاتے ہیں۔شرا ہیں پی جاتی ہیں۔بدکاریاں کی جاتی ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ جب تک جان میں جان ہے مشرقی پنجاب میں قادیان کے ذریعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا بلند رکھیں۔ہماری بدقسمتی ہوگی۔اگر ہم اپنے ہاتھوں سے اسلام کا جھنڈا چھوڑ کر بھا گئیں۔میں اگر قادیان سے باہر ہوں تو صرف اس لئے کہ جماعت نے کثرت رائے سے یہ فیصلہ کیا تھا۔ہمارا باہر آنا اپنی جانوں