اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 21 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 21

۲۱ کوشش کی اور میری خوشی کی کوئی انتہا باقی نہ رہی جب میرے کان میں یہ آواز پڑی کہ گھوڑی لایا ہوں۔تمہارے پلو ٹھے کو نوکری کے واسطے بھیجنے کی غرض سے۔اور بروالہ بھی بلایا ہے اس کے واسطے روٹی روٹی پکاؤ تا رات ہی کو بھیج دیں کیونکہ گرمی کا موسم ہے دن میں سفر نہ ہو سکے گا راستہ میں پانی بھی نہیں ملتا۔“ وغیرہ میں یہ خبر سن کر اچھل پڑا۔نیچے اتر آیا اور تجاہل عارفانہ کے طریق پر والد صاحب سے گھوڑی کے متعلق پوچھنے لگا جس کے جواب میں والد صاحب نے مجھے بھی وہی کچھ فرمایا۔اور فرمایا ایک دو جوڑے کپڑے کے اور مختصر سا بسترہ ساتھ لے لینا کیونکہ گھوڑی پر زیادہ بوجھ نہ بندھ سکے گا۔قربان جاؤں میں اپنے قادر مطلق خدا کے جو حقیقتا مقلب القلوب اور نہاں در نہاں خیالات پر بھی تصرف رکھتا ہے اور جس کے اذن کے بغیر کوئی ذرہ بھی حرکت نہیں کر سکتا۔اور سچ سچ وہی پاک ذات کن فيكون کی مالک ہے مایوسی اور نا امیدی میں وہ بے سہاروں کا سہارا اور نا امیدوں کی امید بنتا اور مضطر کی التجا کوسنتا اور غیر ممکن کوممکن میں بدل دیتا ہے میرے وہم میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی کہ کیونکر والد صاحب کے دل پر ایسا تصرف ہوا کہ کل تک جس بات سے وہ با وجود درخواستوں کے انکار اور انکار پر اصرار کرتے تھے۔آج کس وجہ سے خود بخود اس کے لئے سامان کر لائے۔کس چیز نے ان کے دل کو پھیرا ؟ وہ صرف اور صرف خدائے واحد ویگانہ کی قدرت کا ایک کرشمہ تھا۔ورنہ اور کوئی سامان اس کے لئے ہرگز ہرگز موجود نہ تھے۔والدین اور بہن بھائیوں سے جدا ہونے کا المناک نظارہ والدہ محترمہ نے جلد جلد کچھ میٹھی روٹیاں۔حلوہ اور انڈے تیار کئے اور آپ بھی جلد تیار ہو گئے اور بہن بھائیوں کو ایک ایک کر کے گلے لگا کر آپ پیار کرنے لگے۔آپکا دل ان خیالات کی وجہ سے جو آپکے دل میں موجزن تھے بھر گیا۔جدائی بلکہ دائمی جدائی کے خیال سے آپ ایسا متاثر ہوئے کہ ضبط نہ کر سکے۔اور باوجود اس خطرہ کے کہ اس وقت کی بے صبری نہ معلوم کیا بنا دے گی پھوٹ پھوٹ کر روئے۔اور گھر میں ایسا کہرام مچا کہ گاؤں والے گھبرا کر خیریت پوچھنے کو دوڑے۔بر والے نے آواز دی اور آپ دل کو تھام کر روتے ہوئے بھائی بہنوں اور غمگین ماں باپ کو خدا کے لئے گویا ہمیشہ کے واسطے چھوڑ کر گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔تھوڑی دُور تک جا کر والد صاحب اور چھوٹے