اصحاب احمد (جلد 9) — Page 22
۲۲ بھائی نے الوداع کہی اور واپس لوٹے اور آپ جلد جلد اپنا سفر کاٹنے لگے۔چلتے چلاتے رات کے بارہ بج چکے ہوں گے اور یہ رات پانچ اور چھ جون ۱۸۹۵ء کی درمیانی رات تھی۔جب آپ گھر سے خدا کی رضا اور اس کے دین کی تلاش میں نکلے اور سات جون کا دن وہ آخری دن تھا جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے آپکی قلم سے آپکے ایک حقیقی دوست کے نام لکھوایا ہوا تھا۔آپ جس گھوڑی پر سوار تھے وہ بہت بڑی اور تیز رفتار تھی۔آپکے ساتھ کا بر والا چوکیدار ) غالباً قوم کا کشمیری ساکن بھا گووال سرداراں ضلع گورداسپور تھا۔چک نمبر ۶۲ میں بھا گووال ضلع گورداسپور کے سکھ لوگ ہی جا کر آباد ہوئے تھے اور وہ گاؤں بھی بھا گو والہ ہی کہلاتا تھا۔آپ کے گھر سے نکل آنے کے بعد گھر والوں پر آپکی جدائی اور رونے کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ آپکے بعد پھر گھر میں ایک گہرام مچ گیا۔اور جب والد صاحب اور بھائی آپکو الوداع کہہ کر واپس گھر گئے تو والدہ نے بہت اصرار کیا کہ میرے لڑکے کو واپس لے آؤ۔میں نہیں بھیجتی۔مرے گا تو آنکھوں کے سامنے تو ہوگا۔والد صاحب پر بھی ان کلمات کا اثر ہوا۔اور انہوں نے پھر کوشش کی کہ آپکو واپس بلوالیں۔مگر آپ چونکہ جلد جلد نکلنے کی فکر میں تھے اور رات بھی اندھیری تھی لوٹانے کی کوشش کرنے والا ان تک نہ پہنچ سکا اور اس طرح آپ بے روک ٹوک جلد جلد اپنا سفر کاٹتے چلے گئے۔چک نمبر ۶۲ بھا گووال سے ڈ چکوٹ اور وہاں سے گوگیرہ پہنچنا تھا میلوں کا تو آپ کو حساب نہیں۔مسافت دور کی تھی راستہ خطرناک تھا چوروں کا خطرہ اور پانی کی قلت تھی۔کئی گھنٹے چلنے کے بعد سحر کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے دونوں کو آرام کرنے پر مجبور کر دیا۔چنانچہ ایک کف دست میدان میں گھوڑی کا رسہ ہاتھ میں تھام کر دونوں کمر سیدھی کر کے لیٹ گئے۔شب بیداری۔تکان اور اس پر ٹھنڈی ہوا کے جھونکے۔آنکھ لگ گئی اور پھر اچانک گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔چونکہ دن نکلنے اور پو پھٹنے کے آثار تھے سوار ہو کر پھر جلدی جلدی چلنے لگے۔قریباً نو بجے صبح آپکے ساتھی نے چوروں کا خطرہ محسوس کیا اور آپکو بتایا کہ بہت دور سے وہ دو آدمی ہمارے ساتھ ساتھ کبھی آگے کبھی پیچھے بھی پہلو پر راستہ کاٹتے ہوئے آنکھ بچا کر آرہے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے تعاقب میں صرف موقعہ کی تلاش میں ہیں۔گھوڑی بہت بڑی تھی اور قیمتی تھی اور اس علاقہ میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہ تھی۔آپ نے احتیاطاً اپنے ساتھی کو گھوڑی پر بٹھا لیا اور کوشش کر کے گھوڑی کو جلدی جلدی چلاتے گئے حتی کے چند میل کے سفر کے بعد وہ لوگ ان سے پیچھے رہ گئے۔چوروں