اصحاب احمد (جلد 9) — Page 20
۲۰ کے خیال کا دل پر گہرا اثر تھا جس کی وجہ سے خوشی آہستہ آہستہ دل سے نکلتیجا رہی تھی اور اس کی بجائے غم و الم اور اداسی و افسردگی جگہ لے رہی تھی۔نہ مجھے کھانے سے رغبت رہی نہ پینے کا شوق باقی رہا۔گھر میں دودھ دہی کی افراط تھی۔جس کا میں بچپن سے شوقین تھا۔مگر اب باوجود والدہ صاحبہ کے تقاضا کے میں نہ پیتا۔مرغ میں نے بکثرت جمع کر رکھے تھے وہ عدم تو جنگی کے باعث کتے بلی کا شکار ہونے لگے۔رات کو مجھے چین نہ آتا۔اور کروٹ لیتے یا ستارے گنتے کٹنے لگی اور ان باتوں کا اثر میری صحت پر بھی پڑنے لگا۔اور میرے دلی درد کی ترجمانی میرا چہرہ اور باقی اعضا ء کرنے لگ گئے۔والدہ محترمہ چونکہ گھر میں ہوتیں میری حرکات اور بے قراری و بیتابی کا معائنہ فرمایا کرتیں۔اور چونکہ عورت ذات کا دل فطر تا نرم ہوتا ہے میرے ان حالات کا ان کے دل پر اثر ہوتا اور کبھی کبھی وہ والد صاحب کو میرے متعلق فرمایا کرتیں : ا سے کیا ہو گیا ہے یہ تو دن بدن کمزور ہوتا جاتا ہے۔کھاتا ہے نہ پیتا ہے۔بلکہ دن رات رورو کر کچھ پڑھتا رہتا ہے۔اسے جہاں کہتا ہے کیوں نہ بھیج دیں۔“ مگر والد صاحب توجہ نہ فرماتے اور ٹال دیتے۔ہوتے ہوتے تیرہ دن گذر گئے۔مگر میری مشکل کشائی کا کوئی سامان نظر نہ آیا۔دن چڑھا مگر میرا دل بیٹھا ہوا تھا۔گھر والوں نے ناشتہ کیا اور کھایا پکایا مگر مجھے ان چیزوں سے نفرت تھی کیونکہ آج کا دن میرے وعدہ پر پہنچ سکنے کا آخری دن تھا زمین و آسمان میرے واسطے اندھیر تھے اور اب مجھے دنیا کی کسی چیز سے وابستگی نہ رہی تھی۔میں آج کسی خاص خیال سے بالکل ہی نئے رنگ کے گیت گا یا کیا۔جن کو میرے سوا یا میرے خدا کے بغیر کوئی سمجھ بھی نہ سکتا تھا۔اور آج میں اپنے خیال میں اپنے خدا سے بھی آخری ہی عرض معروض کر رہا تھا۔دن چڑھا۔دو پہر ہوئی۔دن ڈھلا اور پھر شام ہوئی اور شام کے ساتھ ہی مجھے اپنی زندگی کی بھی شام نظر آنے لگی اور مجھ پر انتہائی اضطراب، بے قراری اور بے چینی مسلط ہوگئی اور ایسا ہوا کہ مایوسی کا غلبہ ہو گیا اور میں سرشام ہی چھت پر جا کر لیٹ گیا۔حالت اضطرار میں تائید غیبی چند منٹ بعد ہی میرے کان میں والد صاحب کی آواز پڑی جن کے ساتھ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کوئی اجنبی گھوڑا گھوڑی ہے۔والد صاحب نے گھوڑی کو باہر چھوڑا اور اندر تشریف لائے۔والدہ صاحبہ نے اس گھوڑی کے متعلق پوچھا کس کی ہے اور کیوں آئی ہے؟ میں نے بھی کان لگا کر والدین کی باتوں کی سننے کی