اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 165 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 165

۱۶۵ تاریخ دی تھی۔صاحب مجسٹریٹ کا نام ڈگلس بینگ تھا جو بعد میں سر“ بھی ہو گئے تھے۔ے۔ڈسٹرکٹ بورڈ ریسٹ ہاؤس (ڈاک بنگلہ ) یہ وہ عمارت ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف مقدمہ مارٹن کلارک کی دو روز پیشی ہوئی تھی۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور اس ریسٹ ہاؤس میں قیام فرما تھے۔ریسٹ ہاؤس کے مشرقی میدان میں سپر نٹنڈنٹ پولیس مع عملہ کیمپوں میں تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع اپنے خدام کے بٹالہ پہنچنے کے بعد ریسٹ ہاؤس میں تشریف لے گئے جس میں کہ مقدمہ کی پیشی تھی۔پادری مارٹن کلارک پہلے ہی اندر تھے۔ریسٹ ہاؤس کا وہ کمرہ عدالت کا کمرہ تھا۔جو عمارت کے شمال مغربی حصہ میں ہے اور جس کمرہ کے شمال اور مغرب میں دونوں طرف برآمدہ ہے وہ اب تک اسی شکل میں ہے۔حضرت بھائی جی نے بتلایا کہ لمبی میز پر کمرہ میں مسٹر ڈگلس سینگ مشرق کی طرف منہ کر کے تشریف رکھتے تھے۔دو کرسیاں ڈگلس صاحب کے دائیں اور بائیں میز کے غربی جانب تھیں۔دائیں طرف والی کرسی سہو ہوا ہے سر ڈگلس بینگ تقسیم ملک سے پہلے ۱۹۳۵ء کے قریب لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس *۔رہے ہیں۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک والے مقدمہ کی سماعت کیپٹن ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور نے بمقام بٹالہ ۱۲،۱۰ ،۱۳ اگست ۱۸۹۷ء کو کی تھی۔اور ۲۳ / اگست کو فیصلہ سنا دیا تھا۔وہ بعد میں کرنل ہو گئے تھے اور ۱۹۱۵ء کے لگ بھگ جزائر انڈیمان میں بطور کمشنر متعین رہے۔(اصحاب احمد جلد ہشتم میں حالات حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب سابق مہر سنگھ میں انڈیمان میں تقرری کا ذکر ہے۔(الفضل ۸/جنوری ۱۹۱۶ء، برصفحہ ۲ کالم ۲ میں ماسٹر صاحب کی طرف سے ان کی ملاقات کا ذکر ہے۔) ۱۹۵۵ء میں ایک شدید بارش سے جو قریباً ساٹھ گھنٹے متواتر برسی تھی مذکورہ ڈاک بنگلہ کا اکثر حصہ گر گیا تھا۔گرا ہوا میں نے بھی دیکھا تھا۔سوا سے گرا کر قدرے جنوب کی طرف نئی اور پہلے سے وسیع عمارت تعمیر ہوئی جس میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ بٹالہ کا دفتر ہے اور اسی احاطے میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے دفتر سے شمال مغرب کی طرف تمام مجسٹریٹوں کی عدالتوں کے کمرے تعمیر کئے گئے ہیں۔(از مؤلف )