اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 164 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 164

۱۶۴ موصوف کے بھائی تھے ٹھیکیدا رالہ یار صاحب بھی ان کے تیسرے بھائی تھے۔۵- چوک ( آر۔ایم صاحب بٹالہ کی کچہری کے بڑے گیٹ کے سامنے والا ) یہ چوک وہ مقام ہے جہاں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مارٹن کلارک والے مقدمہ کی تاریخ کے روز بڑا سا جبہ پہن کر ایک ہجوم کے ساتھ (کسی برے منظر کی امید میں) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قادیان سے بٹالہ پہنچنے کے منتظر تھے۔لیکن دیکھتے کیا ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یکہ سے ہنستے ہوئے اترے اور آپ کے استقبال کو کپورتھلہ کی جماعت کے افراد موجود تھے۔جن میں سے چند دوست تو حضرت کو لینے بٹالہ سے با ہر قادیان کی طرف انار کلی کے قریب تک آئے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس شان سے آتے دیکھ کر مولوی محمد حسین صاحب جل بھن گئے اور اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے چلے گئے۔فوجی سرائے یہ وہی سرائے ہے جس کے ایک حصہ میں آجکل ریذیڈنٹ مجسٹریٹ صاحب کی عدالت ہے۔اور ایک حصہ میں میونسپل کمیٹی کے دفتر۔اس کمیٹی کے جنوب مشرقی کونہ کے کمرے کی چھت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک رات قیام فرمایا کیونکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب بہادر نے دوسرے روز کی حضرت میاں محمد بخش صاحب کے تیسرے بھائی حضرت میاں اللہ یار صاحب ٹھیکہ دار مہاجر قادیان تھے۔حضرت میاں محمد بخش صاحب کے فرزند حضرت مولوی محمد حسین صاحب صحابی ہیں جن کو آسٹریلیا کی اولیں مسجد احمد یہ کے سنگ بنیاد رکھنے میں شرکت کی سعادت کا موقع حضرت خلیفتہ المسیح الرابع اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہاں بلوا کر بہم پہنچایا۔اسی طرح حضور نے آپ کو ۱۹۸۹ء کی لندن کانفرنس پر بھی بلوایا تا احباب آپ کو دیکھ کر زمرہ تابعین میں شامل ہو سکیں۔بوقت طبع دوم کتاب ہذا دیکھا گیا کہ فوجی سرائے میں میونسپل کمیٹی کا دفتر موجود ہے۔البتہ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کا دفتر وہاں سے منتقل ہو چکا ہے جس کی جگہ اسٹنٹ رجسٹرار کو اپریٹو سوسائٹیز کا دفتر آ گیا ہے۔*