اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 2 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 2

عبد طفولیت میں اسلام کا اثر اور ابتدائی تعلیم آپ ایک ماہ کے ہوں گے کہ والدہ صاحبہ ضلع گجرات میں بمقام مٹھا چک اپنے والد چوہدری گوپال داس کے ہاں آگئیں۔جو وہاں پٹواری تھے۔ایک رات آپ چار پائی سے گر پڑے تو ایک مسلمان معمر عورت مریم نامی نے اٹھا کر ساری رات اپنے ساتھ سلائے رکھا۔بعد ازاں اسے آپ سے محبت ہو گئی اور وہ آپ کو رات کو بھی جدا نہ کرتیں۔اور اکثر روزانہ آپ کو گود میں لے کر قرآن مجید کی تلاوت کرتیں اور آپ بالعموم ان کے ہاں کھا پی بھی لیا کرتے تھے۔چار پانچ سال کی عمر میں آپ کے نانا نے آپ کو جکالیاں ( تحصیل پھالیہ ) کے مدرسہ میں داخل کرا دیا۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عادات کو جو ماں مریم کی صحبت سے اسلامی رنگ میں ڈھلتی جا رہی تھیں۔نانا نے بدلنے کی کوشش کی ہوگی۔کیونکہ ایک روز ایک مسلمان لڑکا آپ سے چھو گیا۔جبکہ آپ کے ہاتھ میں آپ کا کھانا تھا سو آپ نے کھانا پھینک دیا اور دن بھر بھوکے روتے رہے۔یہ کھانا کسی ہندو ساتھی نے اٹھا کر رکھ لیا تھا اور کھانے کے وقت یہ تسلی دلا کر اسی کھانے کو کھا لینے پر اصرار کیا کہ ہم کسی کو نہیں بتلائیں گے لیکن آپ کو پانچ چھ سال کی اس ننھی سی عمر میں بھرشٹ کھانے سے موت بھلی معلوم ہوئی۔چنانچہ موسم گرما کا لمبادن آپ نے پانی پی پی کر کاٹ دیا۔والدین نے اظہار محبت کے لئے کانوں اور ہاتھوں میں بالیاں اور سمجھنے دار کڑے اور پاؤنٹے ڈال رکھے تھے۔شدت گرما کی وجہ سے ہو کا عالم تھا۔بھوک آپ کو بار بار ستاتی اور آپ بار بار کنوئیں کی طرف جاتے تھے۔چنانچہ ایک مرتبہ جو گئے تو سنگدل رہٹ والے نے گلے میں کپڑا ڈال کر کھنچے کھنچتے آپ کو ایک گڑھیال کے اندر جا پٹکا اور وہ آپ کے سینہ پر گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گیا۔اور آپ کے گلی کی ہنسلی نہایت بے رحمی سے کھینچ کر اتار لی اور درد کے مارے آپ کی چینیں جو نکلیں تو اس بد بخت نے آپ کا گلا اتنے زور سے دبایا کہ آپ کی آنکھیں باہر نکلنے کو آ ئیں اور آپ بیہوش ہو گئے اور ہوش آتے ہی سہم کر وہاں سے بھاگے۔لڑکوں نے زیور اترے دیکھ کر ماسٹر صاحب کو بتایا۔آپ سے تفصیل سن کر انہوں نے بھی اور بعد میں آپ کے نانا نے بھی موقعہ پر دریافت کیا لیکن کون اقرار کرتا ہے اس واقعہ پر آپ کے زیور ہمیشہ کے لئے اتار لئے گئے۔پاک پیٹن کا عجیب واقعہ والد ماجد پاک پٹن میں بوجہ ملازمت مقیم ہوئے۔مذکورہ بالا واقعہ کے باعث والدہ اپنے بچے کو