اصحاب احمد (جلد 9) — Page 3
آنکھوں سے اوجھل کرنا پسند نہ کرتی تھیں۔اس لئے آپ یہاں پڑھائی سے محروم رہے۔یہاں چھت سے گر کر آپ کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔جس سے شفایاب ہونے پر ایک تالاب میں جہاں آپ والدہ کے ہمراہ گئے تھے۔جوان لڑکیوں کو نہاتے دیکھ کر خطرہ نہ محسوس کرتے ہوئے آپ نے چھلانگ لگا دی۔عورتوں کی چیخ و پکار پر مردوں نے آ کر آپ کو بچایا۔اور آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نئی زندگی عطا ہوئی۔والدہ آپ کو سناتی تھیں کہ محلہ کی عورتوں کے ساتھ میں پاک پٹن میں بابے کی خانقاہ پر نذ رعقیدت کے لئے گئی۔واپسی پر ایک سفید ریش سبز عمامہ پوش بزرگ نے تمہیں اپنی طرف بلایا۔لیکن میں گھبرا گئی اور تمہیں لے کر تیزی سے جانے لگی تو اس بزرگ نے جوش سے کہا کہ بیٹی ! یہ بچہ ہمارا ہے بہتر ہے خوشی سے ہمیں دے دو۔اس کی پیشانی میں ایک ایسی چیز ہے جو تمہارے کام کی نہیں۔مان لو تو بھلا ہو گا۔ورنہ پچھتاؤ گی۔میں وہاں سے تمہیں لے کر بھاگی اور پھر کبھی اس خانقاہ کا رخ نہیں کیا۔میرے اسلام قبول کرنے کے بعد والدہ صاحبہ سرد آہ بھر کر فرمایا کرتیں کہ پچھن تو پہلے ہی سے ایسے تھے مگر افسوس ہم نے سمجھا نہیں تھا۔تحصیل چونیاں میں بودوباش بعض مشکلات کے باعث والد صاحب تحصیل چونیاں ( ضلع لاہور ) کے دیہات دیر سنگھ والا۔بھا گو والہ گجنسنگھ والا۔ٹبی وغیرہ میں بطور مختار عام منتقل ہو گئے۔یہ دیہات بعض سکھ سرداروں کی ملکیت تھے۔یہاں آپ کی تعلیم ایک پنڈت کی زیر نگرانی ہونے لگی۔جو ہندی کی تعلیم کے ساتھ بعض وید منتر بھی زبانی یاد کراتے اور آپ کی زبان کی صفائی اور روانی کی وجہ سے زیادہ تر توجہ استاد کی زبانی تعلیم پر ہی مبذول ہوگئی اور اس طرح بہت سے دید منتر آپ کو یاد ہو گئے۔جو عام طور پر سکھ سردار اور بڑے بوڑھے شغل کے طور پر آپ سے سن کر خوش ہوتے تھے۔وہاں کا واقعہ ہے کہ ایک روز والد صاحب نے ایک طاقچہ سے جوتا اٹھا لانے کو کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کے دماغ سے وہ طاقچہ محو کر دیا اور آپ دوسرے طاقچہ کی طرف بڑھے۔وہاں پہنچنے کی دیر تھی کہ چھت بیٹھ گئی۔صرف چند فٹ چھت نہ معلوم کس طرح کھڑی رہ گئی۔اور آپ بچ گئے۔ورنہ پہلے طاقچہ کی صورت میں ٹوٹ کر گرنے والے شہتیر سے آپ جاں بحق ہو جاتے۔عہد طفولیت میں مذہبی سرگرمی آپ کے والد صاحب کا خیال آپ کی تعلیم کے متعلق تبدیل ہو گیا اور آپ کو چونیاں میں جو ان