اصحاب احمد (جلد 9) — Page 154
۱۵۴ کے بعد لوگ اپنی اپنی جگہ دعا و استغفار میں مشغول رہتے۔حتی کہ اذان ہو جاتی تھی اذان سن کر دورکعت سنت بھی عموما اپنے اپنے ڈیروں ہی پر پڑھ کر مسجد میں آتے اور جماعت کے انتظار میں خاموش ذکر الہی میں مصروف رہتے تھے۔تہجد اور نوافل کا اتنا چرچا تھا کہ اس کی وجہ سے کئی روز تک میں ایک غلطی کا مرتکب ہوتا رہا۔وہ یہ کہ چونکہ صبح کی دوسنت عموما دوست گھر میں ہی پڑھ کر آتے تھے میں باوجود اس علم کے کہ صبح کی نماز دوسنت اور دو فرض پر مشتمل ہے اس غلطی کا مرتکب رہا کہ صبح کی دوستیں نہ پڑھیں آخر ایک روز جب کوئی نئے مہمان آئے اور وہ جماعت کھڑی میں شریک ہوئے جس کی وجہ سے پہلی دوسنت نہ پڑھ سکے۔انہوں نے جماعت کے بعد دوسنت ادا کیں تو مجھے حیرت اور تعجب ہوا کہ فرائض کے بعد صبح کی تو کوئی نماز نہیں یہ دوست کیوں پڑھ رہے ہیں اس پر مجھے کسی دوست نے بتایا کہ صبح کی پہلی دوسنت ان سے رہ گئی تھیں۔وہ ادا کر رہے ہیں۔تب جا کر مجھے ہوش آیا اور میں سنبھلا اور اپنی غلطی کا ازالہ کرنے لگا۔ورنہ میں بھی تہجد کی نماز اپنی جگہ پر ادا کر لیا کرتا مگر سنن پہلے چند ایام خیال سے اتری ہی رہیں۔نماز اشراق۔صحی اور صلوۃ الا دابین کا بھی اس زمانہ میں خاصا چر چا تھا۔امامت و تلاوت مولوی عبد الکریم صاحب نماز اس زمانہ میں حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم سیالکوٹی پڑھایا کرتے تھے ( جن ) کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم سے ایک عشق عطا فر مایا تھا اور نہایت خوش الحانی اور جوش سے قرآن پڑھا کرتے تھے۔ان کی آواز نہایت بلند مگر دلکش تھی۔اکثر ایسا بھی ہوا کرتا تھا کہ ان کی قرآت سے بعض اوقات گہری نیند سوتے ہوئے دوست بیدار ہو جایا کرتے تھے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب ۳۲ سید نا حضرت مولانا مولوی نوالدین صاحب بعض اوقات صبح صادق سے پہلے ہی گھر سے باہر آ جایا کرتے اور ہم لوگوں کو صبح صادق اور صبح کا ذب میں امتیاز بتایا کرتے تھے۔اور نجوم کے متعلق بھی بعض باتیں سمجھایا کرتے تھے جن کے ذریعہ سے ہمیں رات کی اندھیری گھڑیوں میں وقت کا اندازہ کرنا آسان ہوتا تھا۔