اصحاب احمد (جلد 9) — Page 155
۱۵۵ حضرت اقدس کی نماز سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز با جماعت کے علاوہ سنن ونوافل اندرون خانہ ادا کرتے تھے۔پہلی سنتیں عموما پڑھ کر گھر سے تشریف لاتے اور پچھلی سنتیں گھر میں تشریف لے جا کر ادا فرماتے تھے۔البتہ ابتدائی زمانہ میں جبکہ حضور شام کی نماز کے بعد عشاء کی نماز تک مسجد ہی میں تشریف فرمایا کرتے تھے۔حضور شام کی نماز کی سنتیں مسجد ہی میں ادا کرتے تھے۔دوسنت ادا فرماتے تھے جو ہلکی ہوتی تھیں مگر سنوار کر پڑھی جاتی تھیں۔کوئی جلدی یا تیزی ان میں نہ ہوتی تھی۔بلکہ ایک اطمینان ہوتا تھا مگر وہ زیادہ لمبی نماز نہ ہوتی تھی۔ان کے علاوہ بھی کبھی کبھار حضور کو مسجد مبارک میں سنت ادا کرتے دیکھا مگر ہمیشہ حضور کی نماز آسان اور ہلکی ہوا کرتی تھی۔چند مرتبہ حضور کی اقتداء میں نماز باجماعت ادا کرنے کی سعادت بھی مجھے نصیب ہوئی۔مگر وہ نماز بھی حضور کی بہت ہی پُر لطف مگر ہمیشہ ہلکی ہی ہوا کرتی تھی۔ابتدا میں اکثر حضور کے ساتھ لگ کر حضور کے پہلو بہ پہلو بھی نماز با جماعت ادا کرنے کا شرف ملا ہے اور اس کے لئے ابتدائی زمانہ میں ہی ہمیں خاص اہتمام کی ضرورت پڑا کرتی تھی۔اور ہم میں سے اکثر کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ حضور کے ساتھ مل کر کھڑے ہونے کی جگہ حاصل کریں۔“ حضور کو میں نے نماز میں کبھی بھی رفع یدین کرتے نہیں دیکھا۔اور نہ ہی آمین بالجہر کرتے سنا۔تشہد میں حضور شہادت کی انگلی سے اشارہ ضرور کیا کرتے تھے مگر میں نے کبھی نہ دیکھا کہ حضور نے انگلی کو ا کرایا یا پھرایا ہو۔صرف ہلکا سا اشارہ ہوتا تھا جو عموما ایک ہی مرتبہ اور بعض اوقات دو مرتبہ بھی ہوتا تھا۔جو میرے خیال میں امام کے تشہد کو لمبا کرنے کی وجہ سے حضور کلمہ شہادت دوہراتے ہوئے کیا کرتے ہونگے۔“ حضور نماز میں ہاتھ ہمیشہ سینہ پر باندھتے تھے۔زیر ناف بلکہ ناف پر بھی میں نے کبھی حضور کو ہاتھ باندھے نماز ادا کرتے نہیں دیکھا۔“ حضور پُر نور خود امام نہ بنا کرتے تھے بلکہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم و مغفور کو حضور نے نمازوں کی امامت کا منصب عطا فرمایا ہوا تھا۔نماز جمعہ بھی حضور خود نہ پڑھاتے تھے بلکہ عموما مولوی صاحب موصوف ہی پڑھاتے تھے۔اور شاذ و نادر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ پڑھایا کرتے تھے۔اور کبھی کبھی مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی بھی پڑھاتے تھے۔ایک زمانہ میں دو جگہ جمعہ کی نماز ہوتی تھی۔