اصحاب احمد (جلد 9) — Page 153
۱۵۳ اذان، نمازیں اور تہجد مسجد مبارک با وجود اپنی پہلی تنگی کے ہم پر فراخ رہا کرتی تھی ، جس میں بار ہا خدا کا اولوا العزم ني جَرِيُّ اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ تن تنہا نماز کے لئے تشریف لے آیا کرتا تھا اور بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ باوجود انتظار کے جب اور کوئی نہ پہنچا تو حضور نے کسی کو بلوا کر اذان کہلوائی۔بلکہ ایک مرتبہ تو مجھے یاد ہے کہ حضور نے خود بھی اذان کہی حضور کی آواز گو ہلکی تھی مگر نہایت دلکش اور سریلی آواز تھی جس میں لحن داؤدی کی جھلک اور گو یا نفخ صور کا سماں بندھ رہا تھا۔نمازیں عموما اول وقت میں ہو جایا کرتی تھیں۔صبح کی نماز کا تو یہ عالم تھا کہ ابھی اندھیرا ہی ہوا کرتا تھا کہ ختم بھی ہو جاتی تھی۔بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ صبح کی اذان صبح ہونے سے قبل ہی ہو جاتی اور نہ صرف یہی بلکہ نماز بھی ہو جایا کرتی تھی۔اور بعد میں پتہ لگتا تھا کہ ابھی تک صبح ظاہر نہیں ہوئی مگ نماز کبھی دوہرائی نہ گئی۔چونکہ اذان ان دنوں عموما حافظ معین الدین صاحب (حافظ معنا ) کہا کرتے تھے اور وہ آنکھوں سے معذور تھے۔نماز تہجد کا ان دنوں زیادہ التزام ہوا کرتا تھا اور قریباً سبھی لوگ نماز تہجد پڑھا کرتے تھے۔تہجد کی نماز بقیہ حاشیہ: - ۲- حضرت سیّدہ ام ناصر صاحبہ والے صحن کی جو مشرقی دیوار تھی اس میں سیخیں لگی ہوئی تھیں۔اب ان کو دور کر کے کچھ وار یعنی رڈے اینٹوں کے لگادئے گئے ہیں۔اس صحن میں نلکا بھی لگایا گیا ہے۔دار مسیح والے کنوئیں کے قریب جو غسالخانہ تھا اب وہ نہیں رہا۔( یہ معلوم نہیں کہ یہ غسلخانہ کب تعمیر ہوا تھا ) -۴- دارامان حضرت اُم المؤمنین کے صحن میں بشمول جنوبی برآمدہ پہلا فرش ہٹا کرنئی اینٹوں کا فرش کیا گیا ہے اور شمال کی طرف جو اونچا حصہ صحن کا ہے اس کا فرش الٹا کر سیمنٹ پھرا دیا گیا ہے۔( یہ بات خاکسار مؤلف کو مکرم مستری محمد دین صاحب درویش نے بتائی تھی جوعرصہ درویشی میں تعمیرات میں کام کر رہے ہیں۔) دار اسیح کے نچلے حصہ میں کنوئیں کے شمال کی طرف جو کمرہ ہے وہ پہلے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب والے حصہ میں شامل تھا۔اس کی جنوبی دیوار میں دارا صیح میں آمد ورفت کے لئے ایک دروازہ اور دروازہ کے مغرب کی طرف ایک کھڑ کی لگا دی گئی ہے ( یعنی درویشی دور میں )۔اضافہ بوقت طبع دوم۔مقامات مقدسہ کے عنوان سے بھائی جی کے مضمون مندرجہ بابت ۲۰ / دسمبر -۵ - ۱۹۵۱ء صفحه ۴ ، ۵ میں الدار کی کچھ تفصیل درج ہے۔