اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 128 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 128

۱۲۸ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کاش کے ایڈیٹر نے شجھ چنک اخبار کے جاری رکھنے کے لئے آریہ سماج کو بہت غیرت دلائی اور اپنے اخبار میں لکھا کہ اس کی خدمت کا بوجھ اپنے ذمہ لیتا ہوں لیکن ناکامی ہوئی بٹالہ پہنچ کر بھی تحریکیں کیں۔آریہ گرلز سکول جو جاری کیا گیا تھا وہ بھی ختم ہوا۔نیم برہنہ زبان اور کرخت زبان لباس اس علاقہ کے لوگوں کا اتنا مختصر کہ عریانی اور ستر عورت بھی نہ ہوا کرتی۔نیم برہنہ کہنا گو یا لغت میں تصرف کرنا ہوگا۔کیونکہ حقیقتہ عوام بالکل ننگے اور برہنہ ہوا کرتے تھے۔چار انگل کی ایک لنگوٹی ان کا لباس تھا جس کو دیکھ کر بعض اوقات سیدنا حضرت نور الدین ان سے ایک سوال کیا کرتے مگر تعجب ہے کہ وہ کچھ ایسے بے حس ہو چکے تھے کہ ان کا جواب ان کے لباس سے بھی زیادہ مکروہ اور نگا ہوتا تھا۔مستورات یا عورتیں جن کے نام ہی میں ستر اور پردہ لازم قرار دیا گیا تھا۔عموماً بے پردہ پھرتیں۔رات کو سونے میں برہنگی اور ایک نہایت ہی قبیح رسم آڈہٹر ونجا کی لعنت میں مبتلا تھیں۔زبان اتنی موٹی بھری اور کرخت تھی کہ کان اس کی برداشت نہ کر سکتے تھے۔گالی کے بغیر ان کی بات مکمل نہ ہوا کرتی۔اور کلام میں حلاوت اور شیرینی پیدا کرنے کے لئے پھکڑ بازی لازمی تھی۔بچوں کو بچپنے ہی سے اس کا مشاق بنایا جاتا۔اور گالی گلوچ کی باقاعدہ تعلیم دی جایا کرتی اور جب بچہ اس علم میں طاق ہو کر باپ یا بڑے بوڑھوں کو منہ پر گالی دینے کے امتحان میں کامیاب ہو جاتا تو واہ واہ کی صدا گونج اٹھتی اور ہر طرف سے داد ملتی۔غرض گالی لوگوں کی عادت اور لازمہ سخن ہو چکی تھی اور اظہار محبت و پیار کے لئے تو یہ چیز ایسی ضروری تھی جیسے کھانے میں نمک۔اس زمانہ میں مساجد قا دیان -1 مسجد مبارک جو دراصل مسجد البیت تھی۔جس کا نام بیت الذکر تھا۔یہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام نے خود بنوائی تھی۔-۲ مسجد اقصیٰ جو حضور پر نور کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے بنوائی۔انہی کا مزار مبارک آج کل مسجد اقصیٰ کے وسط میں واقع ہے۔انہوں نے یہ مسجد کن حالات اور کس نیت سے بنائی۔وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور مسجد کی قبولیت سے ظاہر ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت سے بڑھ کر اور کیا