اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 129 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 129

۱۲۹ چیز انسانی اعمال اور اس کی قلبی کیفیت کے نیک و بد کی گواہ ہوسکتی ہے۔حکم خاتمہ وانجام کی نوعیت پر لگا کرتے ہیں۔کون جانتا ہے کہ اس مقدس انسان نے خاندانی ریاست اور آبائی جائداد کے حصول کی کوشش کس نیت اور ارادہ سے کی تھیں۔کون سمجھ سکتا تھا کہ ان کی یہ ساری تگ و دو کن اغراض و مقاصد کے لئے تھی۔کس کو اس بات کی خبر ہے کہ انہوں نے اپنی عمر کا بیشتر اور نہایت قیمتی حصہ کس چیز کے حصول میں خرچ کر دیا۔اس بات سے کون مطلع ہے کہ انہوں نے اپنی عمر کا سارا اندوختہ اور ستر ہزار روپیہ کس غایت ومرام کی تلاش میں اڑا دیا ؟ اور کون اس امر سے آگاہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے کہ: ”ورنہ میں جانتا ہوں کہ جس طرف اس کی (مسیح موعود کی ) توجہ ہے یعنی دین کی طرف ہیچ اور سچی بات یہی ہے۔ہم تو اپنی عمر ضائع کر رہے ہیں۔“ حضور کو بھی اپنے ساتھ دنیوی کاموں میں شریک کر کے دنیا دار اور رو خلق بنا لینے کی کوشش کس خیال سے فرمایا کرتے تھے۔اللہ اور صرف اللہ ہی کی ذات ہے جو ان کے قلب کی گہرائیوں اور اندرونی بھیدوں سے واقف، قلبی کیفیات سے آگاہ اور نیت کی حقیقت کا راز دان ہے۔اس کی میزان صحیح اور ناپ درست۔اس میں غلطی ناممکن ہے۔پس خدا تعالیٰ جس طرح اپنی قدرت نمائی سے پہچانا جاتا ہے۔اسی طرح اس کی مرضی اس کی فعلی شہادت سے پائی جاسکتی ہے۔حضرت مرزا صاحب مرحوم کا دنیوی ناکامیوں اور نامرادیوں کے بعد مغموم ومحزون رہنا اور یہ کہتے رہنا کہ " جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا تو شاید آج قطب وقت یا غوث وقت ہوتا۔“ ایک پاک تبدیلی اور تبتل الی اللہ کی دقیع دلیل اور قومی بر ہان ہے اور عـــرفــت ربـی بـفـســخ العزائم کا مقولہ ان کے نور معرفت پا جانے کا ثبوت۔اس کے علاوہ عمر بگذشت و نماند است جز ایام چند به که دریاد کسے صبح کم شامے چند نیز از روئے تو اے کس ہر ہے کسے نیست امیدم که روم نا امید