اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 127 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 127

۱۲۷ اور اخبار والوں نے اسی ہند و بازار میں ایک اوشد ہالہ ( مطب ) بھی جاری کیا تھا۔مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ شدید طاعون سے ( مارچ اور اپریل ۱۹۰۷ ء میں۔مؤلف ) اس اخبار کا سارا عملہ اور آریہ سماج قادیان کے سارے کرتا دھرتا لقمہ اجل ہو گئے اور آریہ سماج کا کام ٹھپ ہو گیا اور اخبار بھی بند ہو گیا۔لالہ ملا وامل صاحب اور لالہ شرمیت صاحب کو آریہ سماج سے کوئی ہمدردی نہ تھی کیونکہ وہ دل سے احمدی تھے اور صرف نام کے آریہ تھے۔اس لئے اس کے بعد ۱۹۱۳ء میں میں نے آریہ سماج مندر کی مرمت کرائی ورنہ یہ چھ سال سے بند پڑا تھا۔اور اس کی ایک دیوار بھی مہندم ہو گئی تھی۔اور دیوار پھاند کر اندر سے میں نے اس کا دروازہ کھولا تھا۔میں نے اور لالہ ملا وامل صاحب کے لڑکے لالہ دا تا رام صاحب نے از سر نو آریہ سماج کا کام شروع کیا۔اب یہ مندرہ سال سے مقامی آریہ سماج نے پنجاب نیشنل بنک کو کرایہ پر دے رکھا ہے۔مندر مسجد وغیرہ بھی کرایہ پر نہیں دی جاتیں۔یہ واحد مثال ہے کہ یہ مندر کرایہ پر دیا گیا ہے۔لالہ جی نے یہ بھی بتایا کہ پہلے پرائمری مدرسہ کے استاد کو آٹھ دس روپے کا الاؤنس دیا جا کر اس سے ڈاک خانہ کا کام بھی لیا جاتا تھا۔بعد ازاں پچھتیں تھیں روپے تنخواہ منظور ہوئی۔اور ایک سب پوسٹ ماسٹر متعین ہوا۔اس وقت ہندو بازار میں جواب کر پا رام - انت رام صاحبان کی کلاسوالہ شو کمپنی کی دکان ہے (جس کا میونسپل نمبر ۳۸۲ وارڈ نمبر ۵ ہے۔مولف) یہ اس وقت ڈاک خانہ تھا ( یہ دکان مذکورہ بالا آریہ سماج مندر کے قریباً سامنے بازار کی مشرقی قضا میں ہے اس مرحلہ پر حضرت بھائی جی کو یاد آ گیا کہ وہی ڈاکخانہ کا مقام ہے جو لالہ جی بتاتے ہیں نہ کہ جو بھائی جی نے اپنے حالات میں لکھا ہے۔پھر حضرت بھائی جی اور خاکسار حکیم لالہ دا تا رام صاحب پسر حکیم لالہ ملا وامل صاحب سے ان کی دکان پر ملے۔انہوں نے بتایا کہ میری عمر چھیاسٹھ سال کی ہے۔لالہ واسد یو صاحب نے ڈاک خانہ والا مقام جو متعین کیا ہے وہ صحیح ہے۔اس وقت اللہ دتہ صاحب پوسٹ ماسٹر ہمیں روپے پر متعین ہو کر آئے تھے ( یہ غیر احمدی تھے اور مارچ ۱۹۰۷ ء سے قبل قادیان سے جاچکے تھے۔بحوالہ تمہ حقیقتہ الوحی نشان ۱۹۹ تا ۲۰۱۔مؤلف ) کچھ عرصہ بعد یہ ڈاک خانہ چھوٹے ہند و بازار میں جوغر با شرقا ہے ) اس دکان میں منتقل ہوا جہاں جنوبی قطار میں وسط بازار سے قبل ہی حکیم اجا گر سنگھ صاحب کی دکان ہے (جس کا میونسپل نمبر ۸۲ ہے۔مؤلف )۔بعد ازاں مسجد اقصیٰ کے مشرق میں منتقل ہوا۔جہاں کہ بعد میں صدرانجمن کا دفتر جائیداد بنا تھا۔وہاں سے موجودہ عمارت میں منتقل ہوا۔ان انتقالات اور مقامات کی حضرت بھائی جی نے تصدیق فرمائی اور ان دونوں ہندو دوستوں کے بیانات بھی آپ کے سامنے ہوئے اور آپ نے ان کی تصدیق فرمائی۔