اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 69 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 69

۶۹ مدرسہ میں موصول ہوا تو عزیز بفضلہ تعالیٰ کامیاب ہونے والوں میں شامل تھا۔(۱۰) ۱۹۳۷ء میں صدر انجمن احمدیہ کی ملازمت سے سبکدوش ( ریٹائر ) ہوا تو مجھے پراویڈنٹ فنڈ ملا۔میں نے اس رقم سے منڈی میں گندم کی تجارت شروع کر دی۔میں گندم خرید کر امرتسر بھجواتا تھا اور اس وجہ سے مجھے امرتسر بھی جانا پڑتا تھا۔ایک دفعہ ماہ جنوری میں میں صبح پانچ چھ بجے کی گاڑی سے امرتسر روانہ ہوا۔سرد ہوا چل رہی تھی اور کچھ بوندا باندی بھی شروع تھی۔میں ڈبہ میں اکیلا تھا اور سخت سردی محسوس کر رہا تھا۔میں نے دعا کرنی شروع کی کہ اے میرے مولا! جب میں جوان تھا اور تکلیف برداشت کرنے کے قابل تھا تو تو نے مجھے بہت آرام سے رکھا اور تقریباً پنشن پر ہی رہا کیونکہ میں حساب کا مدرس تھا اور حساب کے مدرس کو صرف پہلے سال ہی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے پھر ہمیشہ وہی قاعدے دہرائے جاتے ہیں اور زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔اب جب کہ میں بوڑھا اور کمزور ہوں تو تو نے مجھے محنت کے کام پر لگا دیا ہے۔کرنی تو مجھے تیری ہی مرضی پڑے گی مگر احتجاج کے ساتھ کروں گا۔اس دعا کے بعد مجھے تسلی ہو گئی۔تیسرے دن میری لڑکی عزیزہ منظور فاطمہ نے مجھے کہا کہ میں نے آج ایک عجیب خواب دیکھا کہ میں کہیں باہر سے مکان کے اندر آئی ہوں۔ہمارے برآمدہ میں چار پائی کے سرہانے کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پائینتی کی طرف حضرت خلیفتہ اسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ تشریف فرما ہیں۔میں نے السلام علیکم کہا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ منظور فاطمہ ! چوہدری صاحب! تمہارے ابا جب سے ملا زمت سے سبکدوش ہوئے ہیں۔میرے پاس نہیں آئے۔میں نے عرض کیا کہ حضور ! وہ دکان پر گاہکوں کے انتظار میں صبح سے شام تک بیٹھے رہتے ہیں۔وہ آپ کے حضور کس وقت حاضر ہوں۔اس پر دونوں بزرگ مُسکرائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اپنے پاس بلایا اور نہایت شفقت سے مجھے مخاطب کر کے آپ کی طرف ایک تسلی بخش پیغام پہنچانے کو دیا۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس وقت تک مجھے وہ پیغام یا دتھا لیکن اب بھول گئی ہوں لیکن تھا وہ تسلی بخش۔