اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 68 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 68

۶۸ میں نے اسے اپنی گود میں اٹھا لیا ہے۔یہ رویا صادقہ تھی اور میں نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایک لڑکا عطا کرے گا لیکن شادی والے حصہ کی تعبیر سمجھ میں نہ آئی۔میری اہلیہ اس وقت اپنے وطن میں رہتی تھیں۔قادیان میں مکان نہیں ملتے تھے۔گاؤں آنے پر معلوم ہوا کہ میری بیوی حاملہ ہے۔میں نے خواب سنا کر خوشخبری دی کہ ہمیں اللہ تعالی لڑکا عطا کرے گا۔میں موسم بہار کی تعطیلات میں گھر آیا تو وضع حمل کے دن نزدیک تھے۔میں نے میاں امام الدین مذکور سے کہا کہ مجھے دو بکرے خرید دے اور پوچھنے پر بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹا عطا کرنا ہے۔اس کے عقیقہ کے لئے درکار ہیں۔وہ حیران ہو کر پوچھنے لگے کہ آپ کو یہ کس طرح معلوم ہوا کہ لڑکا پیدا ہوگا۔میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو ایسی خوشخبریاں دیتا ہے۔دوسروں کو نہیں دیتا اور یہی ہم میں اور آپ میں فرق ہے۔اگلے روز اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بچہ عطا کیا۔جس کا نام حضرت خلیفہ اول نے عبدالرحمن رکھا۔جو اس وقت یوگنڈا ( مشرقی افریقہ ) میں ایک معقول ملازمت پر ہے۔ایک سال کے بعد میں پھر موسم بہار کی تعطیلات میں گھر آیا تو عین خواب کے مطابق بچہ کو رینگتے دیکھا۔چند روز بعد اس چچیری بہن کو جس کے خاوند سے اپنی بہن کی شادی دیکھی تھی طاعون ہو گئی اور وہ فوت ہو گئی۔اب مجھے تعبیر سمجھ آئی کہ میری بہن کو بھی تکلیف ہوگی اور اسے صدقہ اور دعاؤں کے لئے کہا اور خود بھی ایسا ہی کیا۔اگلے سال انہی ایام میں ہمشیرہ اور اس کی ایک لڑکی طاعون سے بیمار ہو گئیں۔ہمشیرہ تو بچ گئی لیکن اس کی لڑکی فوت ہوگئی۔(۹) عزیزم عبد الرحمن نے دسویں جماعت کا یونیورسٹی کا امتحان دیا۔میں کسی وجہ سے ناراض تھا اس کی کامیابی کے لئے دعا نہ کی۔نتیجہ نکلنے کے روز مجھے خیال آیا کہ یہ میری غلطی ہے کہ دعا نہیں کی چنانچہ نواں پنڈ (احمد آباد) کے شمال میں بڑ کے درخت کے پاس تنہائی میں میں نے مغرب کی نماز پڑھی اور نہایت عاجزی سے عزیز کی کامیابی کے لئے دعا کی۔میری دعا منظور ہوگئی۔میں خوشی خوشی گھر آیا۔تھوڑی دیر بعد ایک لڑکا آیا جو لاہور سے نتیجہ نقل کر کے لایا تھا۔اس فہرست میں عزیز کا نام نہ تھا۔اس نے رونا شروع کر دیا۔میں نے اسے تسلی دی کہ اس پر کوئی اعتبار نہیں۔کل نتیجہ آئے گا تو انشاء اللہ تعالیٰ تم کامیاب ہو گے۔دوسرے دن بذریعہ ڈاک نتیجہ