اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 70 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 70

بعد ازاں مجلس مشاورت میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ سوال پیش کیا۔جو منظور ہوا کہ ملازمین صدر انجمن احمدیہ کو جو پراویڈنٹ فنڈ حصہ صدر انجمن نہ لینا چاہیں۔انہیں پنشن مل سکے لیکن یہ تو آئیندہ کے لئے تھا۔میں تو پراویڈنٹ فنڈ لے چکا تھا۔میں نے درخواست دی کہ ایسا ہی حق ہمیں بھی جو ریٹائر ہو چکے ہیں ملنا چاہئے۔انجمن کی طرف سے یہ معاملہ پیش ہونے پر حضور نے اس کی منظوری دے دی۔چنانچہ میں نے صدر انجمن کے حصہ کا فنڈ واپس کر کے پنشن لینی شروع کردی چونکہ میں نے پنشن کے لئے دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔اس لئے میں نے دکان کا کام ترک کر دیا۔(11) نیز آپ بیان فرماتے ہیں کہ کالج کے پہلے سال کا امتحان میں دے چکا تھا کہ سخت طاعون پڑی۔جس میں والد صاحب بھی وفات پاگئے چونکہ میں ان کی خدمت کر تا رہا تھا اور کسی قسم کی پر ہیز نہ کی تھی بلکہ گاؤں کے دیگر بیماروں کی بھی تیمار داری کرتا اور مر دے دفن کرانے میں مدد دیتا تھا۔اس لئے میرے نزدیک بیماری کا مجھ میں بھی اثر ہو چکا تھا اور موت مجھے سامنے نظر آ رہی تھی۔ایک دن مجھے یہ خیال پیدا ہوا کہ میں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا۔موت کے بعد میرا کیا حال ہوگا۔یہی فکر کئی روز تک دامنگیر رہا اور میں تو بہ استغفار میں مشغول رہا۔ایک دن ظہر کی نماز میں بہت ہی گڑ گڑا کر دعا کر رہا تھا کہ بہت زور سے میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ اس وقت خدا کا جو تم پر فضل ہے وہ تمہارے کس عمل کا نتیجہ ہے۔اس سے میرے دل کو بہت تسکین ہوئی اور گو میں بہت کمزور ہوں لیکن آخرت کا خوف مجھے کبھی نہیں ہوا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ جو کچھ بھی وہاں ملے گا مولا کریم کے فضل سے ملے گا۔