اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 93 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 93

۹۴ تھی۔آپ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم لدھیانہ پہنچے ہیں تو ہم روزہ رکھے ہوئے تھے۔رمضان کا مہینہ تھا۔عصر کا وقت تھا۔ہمارے دریافت کرنے پر کہ ہم روزہ پورا کر لیں۔حضور نے فرمایا کہ سفر میں روزہ جائز نہیں۔حضور نے یہ عذر صحیح نہ سمجھا کہ دن کا تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا ہے۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب رحیم بخش صاحب کے ہاں تیسرے فرزند ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب غالبا ۷ ۱۸۸ء میں محلہ ڈھک بازار میں ہی پیدا ہوئے۔آپ کی والدہ محترمہ سناتی تھیں کہ ڈاکٹر صاحب کی زبان پر پنگوڑھے میں اللہ کا لفظ آتا تھا۔پانچ چھ سال کی عمر میں آپ کو اور حافظ ملک محمد صاحب کو مسجد میں قرآن مجید پڑھنے کے لئے بھیجا۔دونوں کو والدہ صاحبہ نے نیلے نہ بند بنوا دئے اور بتایا کہ یہ نماز پڑھنے کی نشانی ہے۔تا نمازوں کی طرف دھیان رہے۔تین سال تک ڈاکٹر صاحب نے قرآن مجید اور پھر اردو فارسی کی تعلیم حاصل کی۔قریباً نو سال کی عمر میں ۱۸۹۶ء میں مدرسہ میں داخل ہو کر آپ نے ۱۹۰۷ء میں دسویں جماعت میں کامیابی حاصل کی۔۱۸۹۹ء میں جب آپ کے دادا جان اور والد ماجد نے مولوی عبد القادر صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔اس میں بعمر بارہ سال ڈاکٹر صاحب بھی شامل تھے۔پندرہ سال کی عمر میں یہ شوق ہوا کہ حضرت مسیح موعود کے حضور سے قبول کئے جانے کی سند حاصل کی جائے۔چنانچہ ۱۹۰۲ء میں آپ نے جمعیت شیخ محمد افضل صاحب پٹیالوی طالب علم خدا بخش صاحب پٹیالوی طالب علم بیعت کی درخواست بھیجی۔چنانچہ بیعت کی منظوری کا اعلان الحکم میں ہو گیا ہے تاثرات آپ بیان فرماتے ہیں کہ عقل و شعور کے ابتدائی وقت میں جو چیز میرے قلب پر مستولی ہوئی حکم مورخه ۷ ارجون ۱۹۰۲ء بیعت کا اعلان یوں مرقوم ہے:۔ر شیخ محمد افضل صاحب، خدا بخش خرادی پٹیالہ، حشمت اللہ صاحب طالب علم پٹیالہ ڈھک بازار۔“ (ص۴۴۳) مؤلف