اصحاب احمد (جلد 8) — Page 94
۹۵ وہ حضور کا مندرجہ ذیل منظوم کلام تھا۔ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دینِ محمد سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلائے یہ شمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور ہے نور اٹھو دیکھو سنایا ہم نے آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام دل کو یہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے ۱۳ یہ چند شعر اس جگہ درج کئے گئے ہیں کہ دل رُک نہیں سکا۔یوں نظم لمبی ہے۔پھر دوسرا منظوم کلام جو یاد ہو اذیل کی فارسی نظم ہے: اے خدا اے چارہ آزار ما اے علاج گریہ ہائے زار ما اے تو مرہم بخش جان ریش ما اے تو دلدار دل غم کیش ما از کرم برداشتی هر بار ما و از تو ہر بار و بر اشجار ما و ستاری از جود و کرم بے کساں را یاری از لطف اتم بنده درمانده باشد دل طپاں ناگہاں درمان براری از میاں حافظ