اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 92 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 92

۹۳ اٹھالیتے ، باوجود یکہ میری تعلیم بہت تھوڑی تھی ، احمدیت کے طفیل مجھے باعزت روزگار نصیب ہوا۔ریاست پٹیالہ کے ناظم صاحب مجھ سے بہت محبت رکھتے اور مجھ پر بہت اعتبار کرتے تھے۔اس لئے میری ملازمت رہی اور آمدنی بھی گذارہ کے لائق ہوتی رہی ، آپ کی شادی اپنی پھوپھی صاحبہ کی بیٹی رحم النساء صاحبہ سے ہوئی۔جو احمدی تھیں۔گو ان کا سنہ بیعت معلوم نہیں تقسیم ملک کے بعد ۱۹۴۷ء میں بمقام لا ہور فوت ہوئیں اور وہیں دفن ہوئیں۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ حافظ صاحب کی زندگی ہمیشہ متوکلانہ رہی ہے۔آپ نے طبیعت بڑی فیاض اور دوست نواز پائی ہے۔جہاں جہاں آپ کا قیام رہا لوگ آپ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے ہاں سے چلا جانے کی وجہ سے افسوس کا اظہار بھی۔مثلاً پٹیالہ ، دہلی اور حیدر آباد وغیرہ کے دوست۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو تبلیغی ذوق دیا ہے۔آپ کے ذریعہ کئی ایک افراد احمدی ہوئے۔آپ نے ۱۹۲۳ء میں نصف سال تک علاقہ ملکانہ میں تبلیغ کی اس عرصہ میں آپ کا کاروبار جو پٹیالہ میں تھا بگڑ گیا اور آپ درویش ہو کر پیٹیالہ آبیٹھے۔پھر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے منشاء سے حیدر آباد دکن چلے گئے اور دس بارہ سال وہاں قیام کیا۔پھر قادیان آگئے۔میں بچپن میں آپ کا مطبع اور خدمت گذار ساتھی تھا۔مجھ سے بہت مروت کرتے تھے۔سب سے چھوٹے بھائی محمد ظہور صاحب کو بھی بچوں کی طرح اپنے ساتھ رکھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت اسی سال کی عمر میں بھی اچھی طرح چل پھر سکتے ہیں۔محمد ظہور صاحب رحیم بخش صاحب کے تیسرے فرزند ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے سوانح درج کرنے سے قبل چوتھے فرزند مکرم محمد ظہور صاحب کا ذکر کیا جاتا ہے۔آپ ۱۸۹۵ء میں پیدا ہوئے۔۱۸۹۹ء والی بیعت کے وقت آپ کی عمر چار سال کی تھی۔گویا طفولیت کے باعث آپ اس وقت سے ہی ایک نیک احمدی گھرانہ کے فرد تھے۔۱۹۰۵ء میں بمقام لدھیانہ آپ نے والد ماجد کے ہمراہ حضرت مسیح موعود کی زیارت کی اور دستی بیعت بھی کی۔اس وقت آپ کی عمر قریباً دس سال کی