اصحاب احمد (جلد 8) — Page 165
۱۶۶ (۱۱) سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۵۵ء کے جلسہ سالانہ میں فرمایا:- صحابہ فوت ہو رہے ہیں۔پچھلے لوگوں کو دیکھو۔باوجود یکہ ان لوگوں میں اتنا علم نہیں تھا۔انہوں نے اس چیز کی بڑی قدر کی اور صحابہ کے حالات پر بڑی بڑی ضخیم کتا بیں دس دس جلدوں میں لکھیں۔ہمارے ہاں بھی صحابہ کے حالات محفوظ ہونے چاہئیں۔ملک صلاح الدین صاحب لکھ رہے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں۔میں مقروض ہو گیا ہوں لیکن کم سے کم احمدیوں کو چاہئے تھا کہ اپنے آباء کے نام یاد رکھتے۔آپ لوگ تو قدر نہیں کرتے۔جس وقت یورپ اور امریکہ احمدی ہوا تو انہوں نے آپ کو بُرا بھلا کہنا ہے کہ حضرت صاحب کے صحابہ اور ان کے ساتھ رہنے والوں کے حالات بھی ہمیں معلوم نہیں۔وہ بڑی بڑی کتابیں لکھیں گے جیسے یورپ میں بعض کتابوں کی ہیں ہیں چالیس چالیس پونڈ قیمت ہوتی ہے اور بڑی بڑی قیمتوں پر لوگ ان کو خریدیں گے۔مگر ان کا مصالحہ ان کو نہیں ملے گا اور وہ غصہ میں آکے تم کو بددعائیں دیں گے کہ ایسے قریبی لوگوں نے کتنی قیمتی چیز ضائع کر دی۔بہر حال سوانح محفوظ رکھنے ضروری ہیں جس جس کو کوئی روایت پتہ لگے اس کو چاہئے کہ لکھ کر اخباروں میں چھپوائے۔کتابوں میں چھپوائے اور جن کو شوق ہے ان کو دے تا کہ وہ جمع کریں اور پھر وہ جو کتابیں چھپوا ئیں ان کو ضرور خرید لے اور اپنے بچوں کو پڑھائے۔“ الفضل ۱۲ فروری ۱۹۵۶ء)