اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 166 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 166

۱۶۷ صحابہ کرام کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد حضرت طلیقہ اسی ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمع فرمود و ۵ ار جولائی ۱۹۴۹ء میں بمقام کوئٹہ فرمایا :- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔اذكروا موتاكم بالخير " عام طور پر اس کے یہ معنی کئے جاتے ہیں کہ مردوں کی برائی نہیں بیان کرنی چاہئے۔وہ فوت ہو گئے ہیں اور ان کا معاملہ اب خدا تعالیٰ سے ہے۔یہ معنی اپنی جگہ درست ہیں لیکن در حقیقت اس میں قومی نکتہ بھی بیان کیا گیا ہے۔آپ نے اذکروا الموتى بالخیر نہیں فرمایا بلکہ آپ نے ”موتاکم“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔یعنی اپنے مردوں کا ذکر نیکی کے ساتھ کرو۔جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے یہ صحابہ کے متعلق ارشاد فرمایا ہے۔دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں:۔أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِاَ يَهِم اقْتَدَ يُتُمُ اهْتَدَيْتُمْ ، میرے سب صحابی ستاروں کی مانند ہیں۔تم ان میں سے جس کے پیچھے بھی چلو گے ہدایت پا جاؤ گے۔کیونکہ صحابہ میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی خدمت دین کا ایسا موقع ملا ہے جس میں وہ منفرد نظر آتا ہے۔اس لیے آپ نے ”مو تا کم “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے کہ تم ان کو ہمیشہ یا درکھا کرو تا تمہیں یہ احساس ہو کہ ہمیں بھی اس قسم کی قربانیاں کرنی چاہئیں اور تا نو جوانوں میں ہمیشہ قربانی، ایثار اور جرأت کا مادہ پیدا ہوتا رہے اور وہ اپنے بزرگ اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے رہیں۔“ (الفضل ۳۱ جولائی ۱۹۴۹ء)