اصحاب احمد (جلد 8) — Page 47
۴۷ آپ کی روحانی زندگی آپ کی روحانی زندگی کا آغاز ۱۸۹۲ء سے ہوتا ہے کیونکہ اس سال آپ نے نماز پڑھنی سیکھی۔آپ کی نماز کا استاد ایک نومسلم نو جوان محمد دین نامی تھا۔نماز آپ نے کسی کی ترغیب کے بغیر خود اپنے شوق سے سیکھی تھی۔آپ نہ صرف نماز شوق سے ادا کرتے تھے بلکہ اذان بھی دیتے تھے۔آپ کے گاؤں میں جس کی آبادی ساڑھے تین صد نفوس پر مشتمل ہو گی۔آپ کے سوا صرف چار دیگر نمازی تھے اور زمینداروں میں سے صرف آپ ہی نماز پڑھتے تھے۔حضرت مسیح موعود کا ذکر آپ تک کیونکر پہنچا ! آپ جب غالباً تیسری یا چوتھی جماعت میں تعلیم پاتے تھے تو آپ نے مدرسہ کے پاس کچھ لوگوں کو یہ باتیں کرتے پایا کہ ایک پادری حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بے ادبی کے الفاظ بولتا تھا۔اس لئے ایک مسلمان بزرگ نے اس کے متعلق پیشگوئی کی ہے کہ اگر وہ باز نہیں آئے گا تو وہ چند ماہ کے اندر مر جائے گا۔آپ بیان کرتے ہیں کہ مہینوں کی تعداد مجھے یاد نہیں رہی۔میرا خیال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبد اللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی کا وہ ذکر کر رہے ہوں گے کہیں نڈل کی تعلیم کے زمانہ میں ایک پٹواری عبد الحلیم سے پہلے پہل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کا علم ہوا۔جو آپ کے چچا چوہدری محمد خان صاحب کے پاس آیا کرتا تھا اور حضرت اقدس کے خلاف باتیں کیا کرتا تھا۔نیز آپ بیان کرتے ہیں کہ :- ” جب میں میٹرک میں پڑھتا تھا تو اسکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ کا بورڈنگ بھا بھڑوں کے محلہ میں ہوتا تھا۔اس محلہ میں ایک وکیل لالہ بھیم سین صاحب رہتے تھے۔وہ کبھی کبھی بورڈنگ یہ پیشگوئی جون ۱۸۹۳ء کی ہے اور اُس کی وفات ۲۷ جولائی ۱۸۹۷ء کو واقع ہوئی تھی۔(مؤلف)