اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 8 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 8

اعجاز اسیح کی تصنیف کے ایام کی بات ہے کہ مولوی صاحب قادیان میں تھے۔حکیم احمد دین صاحب سکنہ سیوکی ( گوجرانوالہ ) بیعت کر کے زار و قطار رونے لگے اور عرض کی کہ میری عمر ستر سال گناہوں اور غفلتوں میں گذری ہے۔کیا میرے لئے بھی بخشش کی کوئی صورت ہو جائے گی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ بچے دل سے میرے ہاتھ پر تو بہ کرنے سے اللہ تعالیٰ پچھلے گناہ خواہ کیسے ہوں، بخش دیتا ہے حکیم صاحب نے عرض کی کہ میرے گناہ بہت بڑے ہیں۔فرمایا کچی تو بہ سے بڑے بڑے گناہ بھی اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے۔حکیم صاحب نے پھر عرض کی کہ میرے گناہ تو بقیہ حاشیہ: - قاضی صاحب کو ملنے گئے۔لیکن وہ قادیان گئے ہوئے تھے۔والد صاحب کے ہم جماعت چوہدری عطا محمد صاحب ذیلدار سکنہ منگووال غربی (گجرات) ۱۸۹۶ء میں لاہور میں اسلامی اصول کی فلاسفی والا لیکچرسُن کر آئے اور اس کا خلاصہ قلم بند کیا ہواسنا یا اور کہا کہ یہ مضمون سب مضامین پر غالب رہا۔قاضی اکمل صاحب، مولوی راجیکی صاحب اور میں مولوی امام الدین صاحب سے تعلیم پاتے تھے۔ان دنوں اخبارات میں لیکھرام کا اکثر ذکر آتا تھا۔اور وہ بھی حضور کے متعلق مضامین لکھتا رہتا تھا۔اور یہ اخبارات والے مضامین ہماری نظر سے گذرتے تھے۔مولوی امام الدین صاحب بٹالہ میں پیر صاحب کے پاس آئے تو وہاں سے دسمبر ۱۸۹۶ء میں قادیان بھی گئے اور حضرت صاحب نے توضیح مرام، فتح اسلام اور در شین دیں۔واپس بٹالہ جا کر آپ نے پیر صاحب سے قادیان جانے کا ذکر کیا تو وہ سُن کر بہت ناراض ہوئے کہ تم وہاں کیوں گئے اور کہ کر نمازیں دوبارہ پڑھوائیں۔میں نے اور قاضی اکمل صاحب نے یہ کتب پڑھنی شروع کردیں اور درمشین میں اشعارے الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از تیغ بُران محمد ۴ بھی پڑھے اور چونکہ لیکھرام کے حالات اخبارات میں پڑھے ہوئے تھے۔اس لئے یہ کتابیں ہم نے دلچسپی سے پڑھیں اور یہ خیال ہو گیا کہ لیکھرام کی پیشگوئی کا نتیجہ دیکھنا ضروری ہے اس لئے ۱۸۹۷ء میں اس کے قتل ہونے کے بعد حضرت مرزا صاحب کی فتح اور کامیابی کی خبر