اصحاب احمد (جلد 8) — Page 9
پہاڑوں اور آسمانوں سے بھی بڑے ہیں۔فرمایا اللہ تعالیٰ کی مغفرت ان سے بھی بڑھ کر ہے۔مولوی صاحب کی موجودگی میں حافظ امام الدین صاحب ساکن قلعہ دیدارسنگھ (گوجرانوالہ) نے حضرت اقدس کی بیعت کی۔حافظ صاحب پہلے حنفی تھے۔پھر وہابی اور پھر چکڑالوی ہو گئے تھے۔انہوں نے حضور کی خدمت میں تبدیلی مذہب کی ساری سرگذشت عرض کی اور دریافت کیا۔آیا میں نے اہلِ قرآن ہونے کی حالت میں جو نمازیں مولوی عبداللہ چکڑالوی بقیہ حاشیہ: - اخبارات میں شائع ہوئی تو ہم نے ۱۸۹۷ء میں بیعت کے خطوط لکھ دیئے۔پھر تو مولانا راجیکی صاحب نے تعلیم سے بالکل توجہ ہٹالی اور صرف حضرت صاحب کی کتب پڑھتے۔اس لئے ہم نے ان کا نام صوفی رکھ دیا۔حضرت مولانا امام الدین صاحب نے یہ بیانات اتنی اور تر اسی سال کی عمر میں دیئے ہیں۔آپ کی ولادت کا سال ۱۸۵۱ ء ہے۔بہ تقاضائے ضعف پیری ضعف حافظہ کے آثار بیانات میں موجود ہیں۔ذیل میں اس کی چندا مثلہ درج کرتا ہوں۔بیان دوم خطوط وحدانی میں تحریر کیا ہے:۔(۱) ظہر کی نماز ہو چکی تھی۔نماز عصر میں نے باجماعت پڑھی۔( ظہر کی نماز کے بعد میں قادیان پہنچا۔حضرت اقدس نماز ظہر پڑھ کر اندرون خانہ جاچکے تھے۔ہاں میں نے نماز ظہر کی یا عصر کی مقتدی ہوکر پڑھی۔) (۲) نماز غالباً مولوی قطب الدین صاحب نے پڑھائی۔(نماز غالبا مولوی قطب الدین صاحب یا حکیم فضل دین صاحب نے پڑھائی)۔(۳) احمدی ہرکارہ نے حضرت اقدس کی کتاب دی۔اس کا نام یاد نہیں۔(۴) حضور سے غالبا دفتر محاسب کے قریب پہلی ملاقات ہوئی۔(۵) حضور نے رسالہ نور القرآن دلایا۔( غالبًا رسالہ نور القرآن دلایا۔) (1) بعد طویل استخاره رویا میں حضرت اقدس (یا فرشتہ ) کے منہ سے آواز آئی۔(۷) غائبا ۱۸۹۵ء میں میں نے بیعت کی۔( ۹۷-۱۸۹۶ء میں میں پہلی بار قادیان گیا۔غالبًا ان دنوں لیکھرام قتل ہو چکا تھا۔اس کے بعد قریباً چار ماہ استخارہ کر کے غالباً آغاز ۱۸۹۷ء میں ایک رؤیا دیکھی جس کے بعد بیعت کی۔)