اصحاب احمد (جلد 8) — Page 7
خیمہ زن تھے۔مولوی صاحب نے گرتہ کے بٹن کھول کر عرض کیا کہ حضور میرے سینہ پر پھونک ماریں اور دست مبارک بھی پھیریں۔حضور نے از راہ کرم ایسا ہی کیا۔ایک دفعہ آپ نے حضور کی خدمت میں ایک گلاس میں پانی پیش کر کے دم کرنے اور تبرک کرنے کے لئے عرض کیا۔چنانچہ حضور نے دم بھی کیا اور کچھ نوش بھی فرمایا۔مولوی صاحب اس تبرک کو پی رہے تھے کہ ایک اور صحابی حصول تبرک کے شوق میں جھپٹ پڑے کچھ پانی تو جھپٹا جھپٹی میں گر گیا اور کچھ اس صحابی نے نوش کر لیا۔بقیہ حاشیہ: - سے تین سال پہلے بیعت کر چکے تھے۔یہ کہنا غلط اور توہین آمیز ہے کہ کسی دوسرے شاگرد کے نام آنے والے لٹریچر سے جناب والد صاحب کو ہدایت نصیب ہوئی۔والد صاحب کا ایک خط ملا ہے۔جس پر ا ار جنوری ۱۸۹۷ء کی مُہر ہے۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کر کے والد صاحب نے دعا کے لئے عرض کیا اور آئینہ کمالات اسلام وغیرہ کتب وی پی پی منگوائی ہیں اور حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی فضل الدین صاحب کو سلام۔بیان مکرم مولوی غلام رسول صاحب و بیس (مندرجہ الحکم مورخه ۲۱ ۱۷اپریل ۱۹۳۵ء) تعطیل دسمبر ۱۸۹۵ء میں ایک صوفی منش بزرگ مولوی غلام قادر والد صاحب کے پاس آئے اور مولوی امام الدین صاحب نے ان سے ملاقات کی۔احمد دین واعظ نے تعجب سے کہا کہ ایک شخص مرزا غلام قادیانی مدعی مهدویت و مسیحیت ہے اور اس کا بھائی چوہڑوں کا پیر ہے۔مولوی امام الدین صاحب یہ بات سُن رہے تھے۔انہوں نے اس بات کی طرف توجہ کی۔میں اس وقت اُن سے سبق پڑھ رہا تھا۔والد صاحب بھی سُن رہے تھے۔مولوی غلام قادر نے والد صاحب سے کہا کہ حضرت مرزا صاحب عارف باللہ اور صاحب حال ہیں۔ان کے متعلق آپ قاضی ضیاء الدین صاحب سے دریافت کر سکتے ہیں اور انہوں نے مرزا صاحب کی بہت تعریف کی جس نے سب کے دلوں میں حضرت مرزا صاحب کا حال دریافت کرنے کی طرف توجہ پیدا کر دی۔تین چار ماہ بعد والد