اصحاب احمد (جلد 8) — Page 160
۱۶۱ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات کو پڑھتا اور ان کے محفوظ رکھنے میں ہمارے اسلاف نے جو کوشش کی ہے اس کو دیکھتا تو میں شرمندہ ہوتا کہ اس زمانہ میں جب کہ پریس اور اشاعت کی سہولتیں نہ تھیں۔انہوں نے کسی محنت اور کوشش سے حالات کو جمع کیا اور محفوظ کر دیا۔اس زمانہ میں جب کہ ہر قسم کی سہولتیں میسر ہیں ہم اس کام کو نہ کر سکے۔اگر چہ میں اپنے قلب میں گونہ مسرت و اطمینان پاتا ہوں کہ الحکم کے ذریعہ اور الفضل میں بھی میرے قلم سے جلیل القدر صحابہ کے حالات شائع ہوئے ہیں۔اگر چہ وہ بطور مواد کے ہیں اور میں چاہتا تھا اور چاہتا ہوں کہ بعض اکابر صحابہ کے تفصیلی حالات لکھوں۔اس لئے میں ہر اس کوشش کا احترام کرتا ہوں جو اس راہ میں کی جاوے۔میں عزیز مکرم ملک صلاح الدین صاحب میں اس کی اہلیت کو محسوس کرتا ہوں اور ان میں اس جذ بہ اور جوش کو پاتا ہوں۔علاوہ ازیں وہ نوجوان ہیں۔فاضل اجبل ہیں۔ریسرچ کا شوق ہے۔وہ اس کام کو خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکتے ہیں۔میں پسند کرتا کہ اس مجموعہ کو طباعت سے پہلے مجھے بھی دکھا دیتے لیکن بایں ہمہ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے اپنی انتہائی محنت سے حالات کو جمع کیا ہوگا اور مجھے یہ بھی خوشی ہے کہ انہیں الحکم سے بھی استفادہ کا موقع ملا۔اس کو مبارک سمجھتا ہوں کہ میں اس ثواب میں انشاء اللہ شریک ہوں گا۔میں اللہ تعالیٰ سے ان کی صحت و توانائی اور اس کام کے لئے توفیق اور کامیابی کی دعا کرتا ہوں اور احباب جماعت سے اگر وہ سمجھتے ہیں کہ میرا بھی کوئی حق ان کو کہنے کا ہے اور شکر گذار جماعت اس کو مجھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے لئے وہ نعمت مہیا کرنے کا شرف دیا جو ایک بے نظیر روحانی دولت ہے تو میں ان سے اور صرف ان سے جو اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہتا ہوں کہ اس نوجوان کی ہمت افزائی کریں اور اس سلسلہ حالات صحابہ کی اشاعت میں اس کے معاون ہوں۔یہ سلسلہ کا کام ہے اور علمی کام ہے اور میں ایک بصیرت کے ساتھ سمجھتا ہوں کہ صلاح الدین اس کا اہل ہے۔اللہ کرے کہ میری آواز بیدار دلوں تک پہنچے اور ان میں قوت عمل پیدا ہو۔صلاح الدین صاحب اپنی ہمت بلند کریں اور اس کام کو اس نیت سے کریں کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام