اصحاب احمد (جلد 8) — Page 5
عموماً نمازیں جماعت احمدیہ کے ساتھ شریک ہو کر ادا کرتے اور مخالفین کے اعتراضات اور مخالفت کے موقع پر احمد یوں کی ہی تائید کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود کی مجالس میں پہلی بار جب آپ کو ۱۸۹۹ء میں زیارت کی سعادت نصیب ہوئی تو آپ نے دوبارہ دستی بقیہ حاشیہ مولوی قطب الدین صاحب نے پڑھائی ( ظہر کی نماز کے بعد میں قادیان پہنچا۔خدام نے کہا کہ اب حضور عصر کی نماز کے وقت باہر آئیں گے۔۔۔ہاں میں نے نماز ظہر کی یا عصر کی مقتدی ہو کر پڑھی۔غالباً مولوی قطب الدین صاحب یا حکیم فضل دین امام تھے۔بیان دوم) میں نے ( قادیان سے باہر آ کر۔بیان (دوم) نماز اس خیال سے دہرائی کہ میری نماز بحکم علمائے وقت۔بیان دوم ) نہیں ہوئی۔حضور سے غالبا دفتر محاسب کے قریب ملاقات ہوئی۔حضور نے استخارہ کرنے کی تلقین کی اور مجھے (غالباً۔بیان دوم) سلسلہ نور القرآن دلایا۔یہ رسالہ ان دنوں جاری تھا۔بٹالہ میں پیر جی کو سب واقعہ سنایا۔مگر اپنا عند یہ بیان نہ کیا وطن جاکر استخارہ کیا۔کئی خوا ہیں آتی تھیں لیکن تسلی نہ ہوتی تھی اور موافق و مخالف باتیں سننے لگا۔آخر تخمیناً چار ماہ کے خواب میں حضرت اقدس ( یا کسی فرشتہ۔بیان دوم) کے منہ سے یہ پُر زور اور مؤثر آواز آئی کہ جس نے آنا تھا آ گیا۔اسی وحی کی تاثیر دل نشین ہوگئی اور اس کی روشنی سے شک اور و ہم کی سب تاریکی دور ہو گئی اور حضور کی صداقت کا علم بالیقین ہو گیا۔لیکن بیدار ہونے پر مخالفانہ کتاب دیکھی تو اس کے جواب کو دل نے پالیا اور اکثر دوستوں اور شاگردوں کے رویا نے یقین کو ترقی دی۔مولوی راجیکی صاحب نے بتایا کہ میں نے گیارہ دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت مرزا صاحب کی صداقت سنی ہے۔ایسے بہت سے دوستوں نے میرے یقین کی ایسے ہی رؤیا صادقہ سے امداد فرمائی۔پھر میں نے غالبا ۱۹۰۵ء میں بیعت کر لی (استخارہ والا رویا غالیا ۱۸۹۷ء کا ہے۔بیان دوم) بیان مکرم قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل (نوٹ: بیان اول مندرجه الفضل مورخه ۴۰-۴-۲۷ - بیان دوم مندرجہ بدر مورخه