اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 4 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 4

ہیں۔میں یہ سنتے ہی حضور کی خدمت میں جا پہنچا۔مصافحہ اور زیارت سے مجھ پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ میں بے ساختہ حضور کے قدموں پر گر گیا اور روتے روتے میری ہچکی بندھ گئی۔حضور نے نہایت شفقت سے میرے سر پر اور میری پیٹھ پر دست مسیحائی پھیرا اور مجھے دلاسا دیا اور میں نے دوبارہ دستی بیعت بھی کی۔" آپ کی والدہ محترمہ احمدیت کی مصدقہ تھیں اور تکلیف کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور کی برکات کے حصول کے لئے یاد کرتی تھیں اور والد ماجد نے گو بیعت نہیں کی تھی لیکن بقیہ حاشیہ: - قلمبند فرمایا اور الحکم مورخہ ۳۵-۸-۲۱ء میں شائع ہوا۔بیان دوم جو الحکم مورخہ ۳۴-۶-۷ میں شائع ہوا۔) خوش قسمتی سے میرے چا زاد بھائی کے لڑکے نے حضرت مرزا صاحب کا ذکر کیا۔اور باتیں سنائیں اور کتاب ازالہ اوہام دی جو صوفیانہ رنگ کی نہ پائی۔اس لئے دلچسپ نہ لگی۔ہاں فکر پیدا ہوا اور مخالفوں کی باتوں سے حضور کے عالم فاضل ہونے کا یقین آیا۔پھر ایک ہرکارہ نے جب کہ میں ( عزیز اکمل اور تلمیذ غلام رسول را جیکی کو۔بیان دوم) پڑھار ہا تھا۔حضور کی کوئی کتاب ایک ماہ کے لئے دی۔جس کا نام یاد نہیں۔اس سے حضور کا عالم ، فاضل اور اعلیٰ مناظر ہونا دل میں آتا تھا۔چا صاحب نے مجھ سے کوئی لفظ مخالفانہ و گستاخانہ۔(بیان دوم) سُن لیا تو کہا کہ حضور بڑے بزرگ اور فاضل اور حامئی اسلام ہیں۔کوئی کلمہ ہتک آمیز نہ کہنا۔ورنہ تباہی آجائے گی۔میں ڈر گیا۔(میرے دل پر اثر ہوا۔بیان دوم ) اور حضور کی ملاقات کا شوق پیدا ہوا۔میں 1ار ربیع الثانی کو عرس پر بٹالہ پیر صاحب کے پاس آیا۔(میں کسی تقریب پر ۱۸۹۶-۹۷ء میں ہمشیرہ کو امرتسر ملنے آیا اور ساتھ ہی بٹالہ پیر صاحب کو ملنے آیا۔غالبا ان دنوں لیکھرام قتل ہو چکا۔بیان دوم) پوچھنے پر پیر صاحب نے قادیان آنے کی اجازت دے دی۔: یہ خیال کر کے کہ یہ مولوی ہے اور ہمارا معتقد ہے۔مرزا صاحب کو کب ماننے لگا ہے۔بیان دوم ) ظہر کے وقت قادیان پہنچا۔نماز ہو چکی تھی۔حاضرین نے کہا کہ حضور ظہر کی نماز پڑھ کر اندرون خانہ جاچکے ہیں۔بیان دوم) چکے ہیں۔اب عصر کے وقت آئیں گے۔عصر کی نماز غالباً